الیکشن کمیشن آف بنگلہ دیش نے اعلان کیا ہے کہ 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات اور آئینی ریفرنڈم میں ووٹر ٹرن آؤٹ 59.44 فیصد رہا۔
الیکشن اور ریفرنڈم گزشتہ روز منعقد ہوئے تھے۔ آج صبح نتائج کے اعلان کی تکمیل کے بعد الیکشن کمیشن کے ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز روح الامین ملک نے تقریباً ساڑھے 11 بجے صحافیوں کو بتایا کہ ڈالے گئے ووٹوں کی مجموعی شرح 59.44 فیصد رہی۔
299 نشستوں کے لیے ووٹنگ، عوام کا پُرامن اظہارِ رائے
ملک بھر کے پولنگ اسٹیشنز پر ہزاروں مرد و خواتین نے گھنٹوں قطاروں میں کھڑے ہو کر ووٹ ڈالا۔ کچھ افراد بیساکھیوں یا وہیل چیئر پر بھی پولنگ مراکز پہنچے۔ ووٹرز نے بغیر کسی خوف کے 300 میں سے 299 پارلیمانی نشستوں کے لیے اپنے نمائندوں کا انتخاب کیا۔
خواتین کی نمایاں شرکت
خواتین ووٹرز کی بڑی تعداد پولنگ اسٹیشنز پر دیکھی گئی۔ کئی خواتین گروپوں کی صورت میں ووٹ ڈالنے آئیں، جو مختلف عمر کے افراد اور دونوں جنسوں کی وسیع شرکت کی عکاسی کرتا ہے۔
تاریخ میں پہلی بار بیک وقت 2 ووٹ
نئی پارلیمنٹ کے انتخاب کے ساتھ ساتھ ووٹرز نے آئینی اصلاحات سے متعلق ریفرنڈم میں بھی حصہ لیا۔ ملکی تاریخ میں پہلی بار ایک ہی دن پارلیمانی انتخاب اور ریفرنڈم ایک ساتھ منعقد کیے گئے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ انتخاب برسوں کی سیاسی کشمکش کے بعد ملک کے جمہوری انتقالِ اقتدار کے لیے اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔














