بنگلہ دیش میں 35 برس بعد ایک مرد وزیراعظم بننے کی توقعات بڑھ گئی ہیں۔ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے حالیہ پارلیمانی انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے، جس کے بعد طارق رحمان کے وزارتِ عظمیٰ سنبھالنے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔
’ہم ایک محفوظ بنگلہ دیش تعمیر کرنا چاہتے ہیں‘
طارق رحمان کا کہنا ہے کہ وہ ایسا بنگلہ دیش بنانا چاہتے ہیں جس کا خواب ہر ماں دیکھتی ہے۔
انہوں نے کہا، ’ہم ایک محفوظ بنگلہ دیش تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔‘
جلاوطنی سے واپسی تک کا سفر
60 سالہ طارق رحمان تقریباً 17 سال کی خود ساختہ جلاوطنی کے بعد حال ہی میں وطن واپس آئے ہیں۔ وہ 2008 میں فوجی حمایت یافتہ نگران حکومت کے دور میں ملک چھوڑ گئے تھے۔
2024 میں نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والی بغاوت کے نتیجے میں شیخ حسینہ کی حکومت کا خاتمہ ہوا، جس کے بعد گزشتہ دسمبر میں طارق رحمان کی واپسی ممکن ہوئی۔
سیاسی وراثت اور خاندانی پس منظر
طارق رحمان ایک مضبوط سیاسی پس منظر رکھتے ہیں۔ وہ سابق صدر ضیا الرحمان کے صاحبزادے اور سابق وزیراعظم بیگم خالدہ ضیا کے فرزند ہیں۔
ان کے والد ضیا الرحمان 1977 سے 1981 تک بنگلہ دیش کے صدر رہے۔ اب طارق رحمان بھی اپنے والدین کی طرح اعلیٰ حکومتی عہدہ سنبھالنے کے لیے تیار دکھائی دیتے ہیں۔
کیا مضبوط سیاسی منظرنامہ کافی ہوگا؟
اگرچہ بی این پی کی انتخابی کامیابی نے ان کی پوزیشن مضبوط کر دی ہے، تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا طارق رحمان بنگلہ دیش کو درپیش سیاسی اور معاشی چیلنجز سے مؤثر طور پر نمٹ سکیں گے یا نہیں۔














