بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

جمعہ 13 فروری 2026
author image

عامر خاکوانی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بنگلہ دیش الیکشن کے حتمی نتائج تو ابھی تک نہیں آئے، کچھ سیٹوں پر ووٹوں کا تنازع چل رہا ہے، دوبارہ گنتی اور دیگر مسائل بھی۔ الیکشن کمیشن نے اس لیے تمام نشستوں پر حتمی نتیجہ جاری نہیں کیا بلکہ مقامی میڈیا کو بھی آج صبح پابند کیا گیا کہ ہاتھ ہولا رکھیں اور حتمی نتائج کا انتظار کریں۔

یہ بات البتہ واضح ہوچکی ہے کہ الیکشن بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی یعنی بی این پی نے مار لیا ہے۔ اسے پارلیمنٹ میں واضح اکثریت حاصل ہوچکی ہے۔ 300 نشستیں ہیں تو حکومت بنانے کے لیے 151 سیٹیں درکار ہیں۔ بی این پی کے پاس 200 کے لگ بھگ سیٹیں آچکی ہیں۔ اس کا دعویٰ دو تہائی اکثریت کا ہے تاہم ابھی یہ واضح نہیں۔

بی این پی کے سربراہ اور سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے بیٹے طارق رحمان ممکنہ طور پر اگلے وزیراعظم ہوں گے۔ انہیں مبارکباد کے پیغامات ملنے شروع ہوگئے ہیں۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پہلے سربراہ حکومت تھے جس نے مبارکباد دی۔ پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے بھی فوری مبارکباد کا پیغام جڑ دیا۔ یورپی ممالک کے ساتھ ساتھ امریکا کی جانب سے بھی طارق رحمان اور بی این پی کو کامیابی کی مبارکباد دی جاچکی ہے۔ پنجابی محاورے کے مطابق بی این پی کہہ سکتی ہے ’ہور سانوں کی چاہیدا‘۔

جماعت اسلامی کو شکوے شکایات پیدا ہوچکی ہیں، دھاندلی کی بات ہورہی ہے، انتخابی نتائج درمیان میں دانستہ سلو کرنے کی، کچھ جگہوں پر رزلٹ بدلے جانے کے الزامات وغیرہ بھی۔ جماعت اسلامی پاکستان کے احباب حسب معمولی دنیا بھر کو لعن طعن کرنے میں مصروف ہیں، باطل کی تمام قوتوں کو جنہوں نے اسلامی جماعت سے الیکشن چھین لیا۔ نتائج تبدیل کردیے وغیرہ وغیرہ۔

جماعت اسلامی نے کیا حاصل کیا؟

یہ بہرحال حقیقت ہے کہ بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی نے اپنی سیاسی تاریخ کی سب سے زیادہ نشستیں جیت لی ہیں۔ اپنی زندگی کا سب سے بڑا ووٹ بینک حاصل کیا ہے اور جماعت کے روایتی چند حلقوں کی جگہ ملک بھر سے ووٹ ملے ہیں، کئی اہم شہروں، قصبات اور دیہی حلقوں میں بھی جماعت نے ٹف مقابلہ کیا اور خاصے ووٹ لیے۔ مجموعی طور پر جماعت کی سیاسی بیس وسیع اور مضبوط ہوئی ہے۔ بنگلہ دیش کی سیاسی تاریخ میں جماعت اسلامی پہلی بار ایک نیشنل لیول کی ہمہ گیر مضبوط طاقتور سیاسی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے۔

یہ کوئی معمولی کامیابی نہیں، بڑی بات ہے۔ اس تناظرمیں دیکھیں کہ حسینہ واجد کے سفاکانہ دور استبداد میں جماعت اسلامی کو زیادہ شدت، سختی اور بے رحمی سے نشانہ بنایا گیا تھا۔

جماعت نے بی این پی کی نسبت 100 گنا زیادہ جبر، سختی اور تشدد سہا۔ اس کے قائدین کو پھانسیاں دی گئیں، بعض لیڈر جیل میں انتقال کرگئے جبکہ متعدد رہنما اور سینکڑوں، ہزاروں کارکن برسوں جیلوں میں سڑتے رہے۔ بہت سے تو مسنگ پرسنز تھے۔

 بنگلہ دیش بھر میں مولانا مودودی کے لٹریچر اور کتابوں پر پابندی تھی، حتیٰ کہ بعد میں تو جماعت اسلامی پر بھی باقاعدہ پابندی لگا دی گئی، اس کے تعلیمی اداروں، مدارس وغیرہ کو بھی بند کردیا گیا۔ عوامی لیگ اور حسینہ واجد نے ایک طرف سے جماعت اسلامی کو قبر میں دفنا کر اوپر گھاس تک اگا لی تھی۔

ایسے میں اگر جماعت اسلامی پھر سے ابھر کر سامنے آئی، اس نے اپنی سیاسی طاقت کئی گنا بڑھا لی، اپنی حمایت میں بے تہاشا اضافہ کیا، نوجوانوں میں اثرونفوذ حاصل کرنے کی کوشش کی، جین زی کے ساتھ وہ کنیکٹ ہونے کی کوشش کررہی ہے، الیکشن میں سب سے بڑی اپوزیشن جماعت اور گورنمنٹ ان ویٹنگ والی پوزیشن پر آگئی ہے تو یہ ہر اعتبار سے بڑی بلکہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ صرف سال ڈیڑھ سال پہلے تک اس کامیابی کا کوئی تصور تک نہیں کرسکتا تھا۔

بی این پی کو فتح کیوں اور کیسے ملی؟

بی این پی کو سب سے بڑا ایڈوانٹیج یہ ہے کہ وہ بنگلہ دیش کی پرانی جماعت ہے، ایک سے زیادہ بار اقتدار میں رہ چکی ہے، بنگلہ دیشی عوام، بزنس مین، کاروباری طبقہ، بیورو کریسی، فوج، میڈیا اور باہر کی دنیا خاص کر مغرب بھی بی این پی سے اچھی طرح واقف ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ اس پارٹی سے کیسے ڈیل کرنا ہے؟ اس کے بہت سے لوگوں سے ان کی پرانی شناسائی اور تعلق ہے۔ بی این پی کی کامیابی کوئی غیر متوقع عنصر یا انقلاب نہیں بلکہ یہ ایک سافٹ چینج ہے، عوامی لیگ جاچکی۔ بی این پی نے اس کی جگہ فطری طور پر لینا تھی، لے لی۔

اس الیکشن میں البتہ جماعت اسلامی کا جیتنا ایک انقلاب ہوتا، ایک غیر متوقع تبدیلی۔ جو بہت سوں کو پریشان، خوفزدہ یا محتاط کردیتی۔ بی این پی کی کامیابی میں اس فیکٹر نے بہت بڑا اور اہم ترین کردار ادا کیا۔ یہ دلچسپ حقیقت ہے کہ امریکا، یورپی یونین، چین، عرب امارات، انڈیا اور خود پاکستان بھی بی این پی کی جیت چاہتا تھا۔ اس جیت سے یہ تمام فریق یا فیکٹرز ریلیکس ہوجائیں گے۔ اب آئندہ کی پلاننگ ہوگی کہ اپنے اپنے مفادات کے اعتبار سے کیسے آگے بڑھنا ہے اور نئی حکومت سے کیا کچھ حاصل کرنے کی پلاننگ کرنا ہے؟ یعنی سب کچھ نارمل انداز میں ہوگا۔

طارق رحمان کو وطن واپسی پر جو پروٹوکول دیا گیا، اس سے ہر ایک کو اندازہ ہوگیا کہ وہ مستقبل کے وزیراعظم ہیں۔ جنوبی ایشیائی سیاست میں یہ اہم عنصر ہے۔ بہت سے لوگ جیتی ہوئی پارٹی کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔ اکثر لوگ دوسرے نمبرپر آنے والے کے ساتھ نہیں کھڑے ہوتے۔

بی این پی کی کامیابی میں ایک بڑا فیکٹر عوامی لیگ کا الیکشن سے باہر ہونا ہے۔ عوامی لیگ ملک کی ایک بڑی جماعت رہی ہے، اس کا اپنا خاص ووٹ بینک تھا۔ عوامی لیگ پر اگر پابندی نہ لگتی، وہ الیکشن لڑتی تو اس کا ووٹ بینک اس کی طرف جاتا اور یوں جماعت اسلامی کو فائدہ ہوجاتا۔ عوامی لیگ پر پابندی کی وجہ سے اس کے ووٹرز کے لیے 2 آپشن تھے، مذہبی جماعت اسلامی یا پھر کسی حد تک سیکولر، ماڈریٹ بی این پی۔ فطری طور پر ان کا انتخاب بی این پی ہی ہونا تھا۔ عوامی لیگ کا ایک فیصد ووٹر بھی جماعت کی طرف نہیں گیا ہوگا، یہ ووٹ بینک خواہ جس قدرسکڑا ہو، بہرحال 10، 12 یا 15 فیصد تو ہوگا ہی، آخری نتیجے میں یہ فیصلہ کن رہا۔

بی این پی کو ان کا اپنا روایتی ووٹ اور ملک بھر کے لیفٹ ونگ ووٹ کے ساتھ، لبرل سیکولر ووٹ، عوامی لیگ ووٹ، شہری آبادی میں نسبتاً ماڈرن خواتین ووٹ بھی ملا۔ ملک بھر کے بیشتر کاروباری طبقات کا ووٹ بھی اس طرف گیا۔

بی این پی کی انتخابی حکمت عملی بھی اچھی رہی۔ ان کی ریلیاں، میڈیا کی موجودگی، بڑے اسٹیج، ڈیجیٹل مہم سب کافی منظم اور وسائل سے بھرپور تھیں۔ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل کیمپین پر واضح سرمایہ کاری دکھائی دی۔

انتخابی دن لاجسٹکس (گاڑیاں، کارکنوں کی موبائلزیشن، پولنگ ایجنٹس) بھی مضبوط تھے۔

بی این پی نے الیکشن میں نظریاتی اور پرانے پارٹی کارکنوں کی جگہ مضبوط مقامی امیدوار کھڑے کرنے پر فوکس کیا۔ سابق ایم پیز، بااثر کاروباری شخصیات، اور مقامی دھڑے کے لیڈرز کو ٹکٹ دیے گئے۔ یہ وہی بات ہے جسے پاکستان، انڈیا میں الیکٹ ایبل اسٹریٹجی کہا جاتا ہے۔کچھ حلقوں میں پارٹی نے اتحاد کے تحت سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرکے ووٹ تقسیم ہونے سے بچایا۔ جماعت اسلامی کی مہم زیادہ نظریاتی، کیڈر بیس اور رضاکار نیٹ ورک پر مبنی تھی جبکہ بی این پی کی مہم زیادہ وسیع، میڈیا سینٹرک اور مالی طور پر نمایاں تھی۔

مذہبی ووٹ کا تقسیم ہونا جماعت کے خلاف گیا

دوسری طرف روایتی مذہبی ووٹ بھی تقسیم ہوا۔ دیوبندی روایتی مذہبی ووٹ کی پارٹی جے یوآئی بنگلہ دیش تو خیر باقاعدہ بی این پی کی اتحادی تھی جبکہ اسلامی اندولن پارٹی سے اتحاد کی جماعت نے خاصی کوشش کی مگر ناکامی ہوئی۔ اسلامی اندولن نے 2 سے زائد نشستوں پر الیکشن لڑا، 3 سیٹیں بھی جیتیں، مگر تھوڑا بہت ووٹ بہت سی جگہوں پر خراب کیا۔ یہی حال خلافت مجلس اور بنگلہ دیش خلافت مجلس کا رہا۔ یہ بھی مذہبی جماعتیں ہیں، اسلامی نظام نافذ کرنا ان کا نعرہ ہے۔ ایک نے 2 سیٹیں جیتیں، دوسری کو ایک ملی، مگر ان کا ووٹ بینک بھی جماعت کے کام نہ آیا۔

دینی مدارس میں کچھ ووٹ رکھنے والی دیگر جماعتوں فرائض اندولن اور زاکر پارٹی نے بھی اکیلے الیکشن لڑا جبکہ حفاظتِ اسلام بنگلہ دیش اور بنگلہ دیش نظامِ اسلام پارٹی نے تو جے یوآئی بنگلہ دیش کی طرح بی این پی کا ساتھ دیا۔ اگر یہ روایتی مذہبی ووٹ بینک اکٹھا ہوکر ایم ایم اے اسٹائل میں (2002 الیکشن کی طرح ) جماعت کو سپورٹ کرتا تو 30 سے 40 حلقوں میں جہاں مارجن کم ہے، وہاں جماعت اسلامی کو فائدہ ہوسکتا تھا۔

پاکستان کی غیر جانبداری

بھارتی میڈیا اور عوامی لیگ کے حلقے ہمیشہ یہ الزام لگاتے ہیں کہ پاکستان ہر الیکشن میں بی این پی اور بیگم خالدہ ضیا کی سپورٹ بلکہ فنانس بھی کرتا ہے۔ ظاہر ہے یہ الزام ہی تھا، غیر تصدیق شدہ، مگر بہرحال پاکستان کی چوائس عوامی لیگ کے بجائے فطری طور پر بی این پی رہی۔ اس بار پاکستان مکمل طور پر غیر جانبدار تھا کیونکہ جو بھی جیت کر آتا، اس کے ساتھ خوشگوار دوستانہ تعلقات ہی ہونے تھے۔

یہ البتہ ممکن ہے کہ پاکستان میں بی این پی کی طرف کچھ جھکاؤ ہو، اس لیے کہ پاکستانی منصوبہ ساز اچھی طرح جانتے ہیں کہ امریکا، یورپی یونین اور چین کی چوائس جماعت اسلامی نہیں ہوسکیی، وہ بی این پی کو ترجیح دیں گے۔ یہ بھی نظر آرہا تھا کہ بی این پی جیت رہی ہے۔ ایسے میں اس کی مخالفت اور جماعت اسلامی بنگلہ دیش کی حمایت کوئی عقلمندی نہیں تھی۔ دوسرا یہ بھی ہے کہ جماعت اسلامی بنگلہ دیش پر پرو پاکستان ہونے کا پرانا الزام ہے۔ اگر یہ جیت جاتی تو اسے اپنی غیر جانبداری ثابت کرنے کے لیے کچھ زیادہ ٹف ہونا پڑتا۔ بی این پی کی نسبت جماعت اسلامی پاکستان کے حوالے سے زیادہ محتاط، سخت اور مضبوط نیشنلسٹ مؤقف اپناتی تاکہ خود پر پرو پاکستان ہونے کا لیبل نہ لگ سکے۔ اس لیے آخری تجزیے میں پاکستان کو بی این پی زیادہ سوٹ کرتی ہے۔

الیکشن میں مذہبی جماعتوں کی کارکردگی

جماعت اسلامی کا تذکرہ تو ہر جگہ ہورہا ہے، اس نے 70 کے لگ بھگ سیٹیں جیتی ہیں تاہم، دیگر چھوٹے مذہبی دھڑوں نے بھی معمولی سا شیئر لیا ہے، مگر ان کے حوالے سے یہ اہم ہے کہ انہیں پہلے کبھی اتنا بھی نہیں ملا۔

اسلامی اندولن پارٹی کو 3 سیٹیں ملی ہیں، یہ خالص دیوبندی مذہبی جماعت ہے مگر جے یوآئی بنگلہ دیش سے زیادہ سخت اور شدید مؤقف کی حامی، اسے انتہائی رائٹ ونگ پارٹی کہہ سکتے ہیں۔ خلافت مجلس پارٹی کو 2 سیٹیں ملی ہیں، یہ خلافت کو نظام بنانے اور اسلامی شریعت کے ماڈل کی حامی ہے۔ اسے پہلی بار 2 سیٹیں ملی ہیں۔ بنگلہ دیش خلافت مجلس پارٹی کو ایک سیٹ ملی ہے، یہ الگ دھڑا ہے مگر یہ بھی خلافت اور اسلامی نظام کی بات کرتے ہیں۔ انہیں پہلی بار سیٹ ملی۔ ان تمام مذہبی جماعتوں بشمول جماعت اسلامی کی سیٹیں اور ووٹ اکھٹا کیا جائے تو بہرحال یہ خاصا بڑا اور مضبوط بلاک بنتا ہے۔ اس اعتبار سے بنگلہ دیشی سیاست میں مذہبی ووٹ بنک بڑھا ہے، مذہبی جماعتوں کا شیئر بھی۔

مستقبل کا نقشہ

جماعت اسلامی اپوزیشن کا کردار نبھانے کے لیے تیار ہے۔ وہ الیکشن پر اعتراض کرے گی، اپنی سیٹیں چھینے جانے کی بات بھی کرے گی، عدالتی قانونی چارہ جوئی بھی ہوگی، مگر جماعت سڑکوں پر آکر سسٹم ڈسٹرب نہیں کرے گی۔ وہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن کا بھرپور کردار ادا کرنے کو ترجیح دی گی۔ البتہ جماعت اسلامی کو یہ خدشہ ضرور ہے کہ بی این پی بھی کہیں مطلق العنان حکومت کے اعتبار سے سافٹ عوامی لیگ نہ بن جائے۔ اس حوالے سے وہ مستعد رہیں گے، نظر رکھیں گے اور رائے عامہ ہموار کرتے رہیں گے۔

یہ البتہ امکان ہے کہ جین زی پارٹی این سی پی زیادہ جارحانہ اور اگریسیو موقف اپنائے۔ یہ جماعت اسلامی کے اتحادی تھی، یہ بھی انتخابی دھاندلی کے الزام لگا رہے ہیں، مگر یہ ممکن ہے اپنے مخصوص اگریسیو انداز کی وجہ سے سڑکوں پر آجائیں۔ ایسی صورت میں ان کا جماعت اسلامی سے فاصلہ بڑھ جائے گا۔

یہ خدشہ بھی ہے کہ بی این پی کا طلبہ ونگ چھاترو دل یونیورسٹی کیمپسز میں زیادہ جارحانہ اور زور زبردستی والا طرزعمل اپنائے، اس کی جماعت اسلامی کے طلبہ ونگ اسلامی چھاترو شِبر اور این سی پی طلبہ ونگز کی جانب سے شدید مزاحمت ہوگی۔ بنگلہ دیش میں اگر احتجاج شروع ہوا تو اس کی ابتدا یونیورسٹی کیمپسز سے ہونے کا امکان ہے۔

بی این پی کے طارق رحمان وزیراعظم آسانی سے بن جائیں گے، انہیں البتہ اپنی حکومت میں شفافیت لانے کی ضرورت ہوگی، ماضی میں ان پر کرپشن کے الزامات لگتے رہے ہیں، تاہم اب وہ زیادہ میچور ہوچکے ہیں، شاید پہلے جیسی غلطیاں نہ کریں۔ آج کا بنگلہ دیش ماضی سے مختلف بھی ہے۔اس کا ادراک طارق رحمان کر پائیں گے یا نہیں، اس کا اندازہ چند ماہ میں ہوجائے گا۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

عثمان طارق کا ایکشن آئی سی سی قوانین کے مطابق ہے، بھارتی امپائر کا اعتراف، انڈین ٹیم میں خوف کا عالم

حکومت عالمی قوتوں کی پراکسی بننے کی کوشش نہ کرے، حافظ نعیم اور مولانا فضل الرحمان کی مشترکہ پریس کانفرنس

سوئنگ سلطان وسیم اکرم سیالکوٹ اسٹالینز کے صدر مقرر

بنگلہ دیش کے اپوزیشن اتحاد کا اجلاس: صحت مند سیاست کے فروغ کی ضرورت پر زور

مخصوص ڈاکٹر کے معاملے پر پی ٹی آئی سپریم کورٹ جائے، حکومت مداخلت نہیں کرے گی، رانا ثنا اللہ

ویڈیو

عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟

پاکستان-انڈیا ٹی20: خواتین شائقین کی قومی ٹیم سےامیدیں

عمران خان سے سیاسی اختلافات ذاتی دشمنی نہیں، آنکھ کی تکلیف پر سیاست کرنا مجرمانہ کوشش ہے، طارق فضل چوہدری

کالم / تجزیہ

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

تہذیب اور نظریہ: ایک بنیادی مغالطہ

نثار عثمانی اور محمد ضیاء الدین: پاکستانی صحافت کا وقار