بنگلہ دیش میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی 2 تہائی اکثریت سے کامیابی کے بعد پاکستان نے ڈھاکہ کے ساتھ تعلقات مزید مستحکم بنانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے بی این پی کے سربراہ طارق رحمان کو تاریخی کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان جمہوری شراکت داری اور باہمی ترقی کے عزم کا اعادہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں:پاک بنگلہ دیش تعلقات میں بہتری کو کراچی میں مقیم بنگالی آبادی کس نظر سے دیکھ رہی ہے؟
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے تہنیتی پیغام میں کہا کہ وہ طارق رحمان کو پارلیمانی انتخابات میں شاندار کامیابی پر دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے بنگلہ دیش کے عوام کو بھی پرامن اور کامیاب انتخابات کے انعقاد پر سراہا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وہ نئی قیادت کے ساتھ مل کر تاریخی، برادرانہ اور کثیرالجہتی دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے خواہاں ہیں تاکہ جنوبی ایشیا اور اس سے آگے امن، استحکام اور ترقی کے مشترکہ اہداف حاصل کیے جا سکیں۔
صدر آصف علی زرداری نے بھی طارق رحمان کو بی این پی کی بھاری اکثریت سے کامیابی پر مبارکباد دی اور کہا کہ پاکستان جمہوری شراکت داری اور مشترکہ ترقی کے لیے مضبوط حمایت جاری رکھے گا۔

غیر سرکاری نتائج کے مطابق بی این پی اور اس کے اتحادیوں نے 299 میں سے کم از کم 212 نشستیں حاصل کیں، جب کہ جماعت اسلامی اور اس کے اتحادیوں نے 70 نشستیں جیتیں۔ بی این پی تقریباً 2 دہائیوں بعد اقتدار میں واپسی کر رہی ہے۔ پارٹی نے اکثریت حاصل کرنے کے بعد قوم کا شکریہ ادا کیا اور ملک بھر میں خصوصی دعاؤں کی اپیل کی، ساتھ ہی ہدایت دی کہ کسی قسم کی جشن ریلی یا جلوس نہ نکالا جائے۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش کے متوقع وزیر اعظم طارق رحمان کون ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق واضح انتخابی نتیجہ 175 ملین آبادی والے ملک میں سیاسی استحکام کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے، جہاں 2024 میں سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی معزولی کے بعد مہینوں تک احتجاج اور بدامنی جاری رہی تھی۔ ان حالات نے روزمرہ زندگی اور معیشت، خصوصاً گارمنٹس کی برآمدی صنعت کو متاثر کیا تھا۔
توقع ہے کہ طارق رحمان جلد وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔ وہ پارٹی کے بانی اور سابق صدر ضیاء الرحمن کے صاحبزادے ہیں اور 18 برس بیرون ملک قیام کے بعد دسمبر میں ڈھاکہ واپس آئے تھے۔
ادھر امریکا نے بھی بی این پی کو تاریخی کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بنگلہ دیش کے ساتھ خوشحالی اور سلامتی کے مشترکہ اہداف کے لیے کام کرنے کا خواہاں ہے۔














