بی این پی کی بھاری اکثریت کے بعد طارق رحمان پر سب کی نظریں، کیا بنگلہ دیش میں نیا سیاسی باب شروع ہوگا؟

جمعہ 13 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بنگلہ دیش کے 12 فروری کے عام انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی دو تہائی اکثریت نے ملکی سیاست میں ایک نئے دور کا اشارہ دے دیا ہے۔ طارق رحمان کی قیادت میں پارٹی نہ صرف واضح پارلیمانی برتری حاصل کر چکی ہے بلکہ اب حکومت سازی کی پوزیشن میں بھی ہے۔

تاہم سیاسی مبصرین کے مطابق اصل امتحان اقتدار حاصل کرنے کے بعد حکمرانی کے انداز کا ہوگا کہ آیا یہ اکثریت اصلاحات اور استحکام کا ذریعہ بنے گی یا ماضی کی سیاسی کشمکش کا تسلسل؟

دو تہائی اکثریت، آزادانہ حکومت کی راہ ہموار

غیر سرکاری نتائج کے مطابق بی این پی اور اس کے اتحادیوں نے 299 میں سے 200 سے زائد نشستیں حاصل کیں، جو واضح پارلیمانی اکثریت ہے۔ اس کامیابی کے بعد طارق رحمان کے وزیراعظم بننے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

ڈھاکہ ٹریبیون کے مطابق بی این پی نے اتنی نشستیں حاصل کر لی ہیں کہ وہ آزادانہ طور پر حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے، اگرچہ الیکشن کمیشن کی جانب سے حتمی نتائج کا باضابطہ اعلان ابھی باقی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پارٹی نے 216 نشستوں کے ساتھ دو تہائی اکثریت حاصل کر لی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش کے متوقع وزیر اعظم طارق رحمان کون ہیں؟

پارٹی نے اپنی کامیابی کے بعد ملک بھر میں جمعہ کی نماز کے بعد خصوصی دعاؤں کا اعلان کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ کسی قسم کی جشن ریلی یا عوامی اجتماع منعقد نہیں کیا جائے گا۔

امریکا، پاکستان اور بھارت سمیت کئی ممالک نے بی این پی اور طارق رحمان کو کامیابی پر مبارکباد دی ہے۔ عالمی برادری نے اس انتخاب کو بنگلہ دیش میں جمہوری عمل کی بحالی کی جانب اہم قدم قرار دیا ہے۔

ڈیلی اسٹار کے تجزیے کے مطابق یہ بھاری اکثریت بی این پی کے لیے ایک ’لِٹمس ٹیسٹ‘ ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا پارٹی اس طاقت کو مشاورت، شفافیت اور ادارہ جاتی اصلاحات کے لیے استعمال کرے گی یا سیاسی غلبے کے لیے؟ تجزیہ میں کہا گیا ہے کہ پائیدار استحکام صرف عددی برتری سے نہیں بلکہ قانون کی بالادستی، عدلیہ کی آزادی اور پارلیمانی مباحثے کے فروغ سے ممکن ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش: انتخابی معرکے میں بی این پی کی برتری، طارق رحمان وزیراعظم بننے کے لیے تیار

ملک کو مہنگائی، زرمبادلہ کے ذخائر، بینکنگ بحران اور سرمایہ کاری کے مسائل کا سامنا ہے۔ واضح اکثریت فوری فیصلوں کا موقع فراہم کرتی ہے، مگر طویل مدتی استحکام کے لیے مستقل مزاجی، اعتماد سازی اور سیاسی مفاہمت ناگزیر ہوگی۔

جولائی 2024 کی تحریک سے فروری 2026 کے انتخاب تک

یہ انتخاب جولائی 2024 کی عوامی تحریک کے بعد منعقد ہوا، جس کے نتیجے میں شیخ حسینہ کی حکومت کا خاتمہ ہوا تھا۔ اس دوران ملک میں سیاسی بے چینی اور احتجاج دیکھنے میں آئے۔ مبصرین کے مطابق حالیہ انتخاب کو گزشتہ کئی برسوں میں پہلا حقیقی مسابقتی انتخاب قرار دیا جا رہا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ آیا طارق رحمان کی قیادت میں بی این پی اس تاریخی موقع کو جمہوری استحکام اور معاشی بحالی میں تبدیل کر پائے گی یا نہیں۔ آنے والے چند ماہ اس اکثریت کی اصل سمت کا تعین کریں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

عثمان طارق کا ایکشن آئی سی سی قوانین کے مطابق ہے، بھارتی امپائر کا اعتراف، انڈین ٹیم میں خوف کا عالم

حکومت عالمی قوتوں کی پراکسی بننے کی کوشش نہ کرے، حافظ نعیم اور مولانا فضل الرحمان کی مشترکہ پریس کانفرنس

سوئنگ سلطان وسیم اکرم سیالکوٹ اسٹالینز کے صدر مقرر

بنگلہ دیش کے اپوزیشن اتحاد کا اجلاس: صحت مند سیاست کے فروغ کی ضرورت پر زور

مخصوص ڈاکٹر کے معاملے پر پی ٹی آئی سپریم کورٹ جائے، حکومت مداخلت نہیں کرے گی، رانا ثنا اللہ

ویڈیو

عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟

پاکستان-انڈیا ٹی20: خواتین شائقین کی قومی ٹیم سےامیدیں

عمران خان سے سیاسی اختلافات ذاتی دشمنی نہیں، آنکھ کی تکلیف پر سیاست کرنا مجرمانہ کوشش ہے، طارق فضل چوہدری

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

تہذیب اور نظریہ: ایک بنیادی مغالطہ