عمران خان کو اسلام آباد جیل منتقل کیا جائے گا، محسن نقوی

جمعہ 13 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اسلام آباد سے سزا ہوئی ہے، انہیں اسلام آباد میں قائم نئے جیل منتقل کیا جائے گا۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرداخلہ محسن نقوی نے کہا کہ حکومت جیل، میڈیکل اور اصلاحی نظام کو جدید خطوط پر استوار کر رہی ہے اور ایسے ماڈل تیار کیے جا رہے ہیں جہاں قیدیوں کو صحت، علاج اور دیگر بنیادی سہولیات ایک ہی جگہ میسر ہوں گی۔

یہ بھی پڑھیں: امن و امان کی صورت حال پیدا ہوئی تو عمران خان کی اڈیالہ جیل سے منتقلی پر غور ہو سکتا ہے، رانا ثنااللہ

انہوں نے بتایا کہ نئے ماڈل جیل کمپلیکس میں ایک جدید اور مکمل سہولیات سے آراستہ اسپتال قائم کیا جا رہا ہے، جہاں مختلف بیماریوں کے علاج کے ساتھ خصوصی شعبے بھی موجود ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقصد یہ ہے کہ جیلوں میں قیدیوں کو بہتر طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ علاج کے لیے بار بار باہر لے جانے کی ضرورت پیش نہ آئے۔

محسن نقوی نے کہا کہ دو ماہ کے اندر اس منصوبے پر عملی پیش رفت نظر آئے گی۔کیا عمران خان کو اسلام آباد جیل منتقل کیا جائے گا؟ اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر کسی قیدی کو عدالت نے اسلام آباد میں سزا سنائی ہے تو وہ وہیں واپس جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ قانون کے مطابق جو بھی فیصلہ ہو گا، اس پر عمل کیا جائے گا اور کسی کو خصوصی رعایت نہیں دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: کے پی میں گورنر راج یا عمران خان کی کسی اور جیل منتقلی سے ملک انارکی کی طرف جائے گا، اسد قیصر

وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ حکومت قیدیوں کی فلاح و بہبود کے ساتھ ساتھ نظام میں شفافیت اور بہتری لانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔

قبل ازیں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد پولیس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کی حالیہ لہر اور پیش آنے والے واقعات کے تناظر میں اس فورس کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی تھی، اور اسلام آباد کے لیے اس کی تشکیل ایک نہایت اہم قدم ثابت ہوئی ہے۔ ان کے مطابق یہ پیش رفت اسلام آباد پولیس کی تاریخ کا ایک اہم اور یادگار باب ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شہریوں کے محافظ پولیس اہلکار جو فرض سے غداری کر بیٹھے

انہوں نے کہا کہ مستقبل میں دیگر صوبوں کے پولیس افسران بھی اسلام آباد آ کر تربیت حاصل کریں گے۔ جدید سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور بین الاقوامی سطح پر کورسز اور تربیتی پروگرامز کے لیے اشتراک کیا جا رہا ہے، جس کے مثبت نتائج بہت جلد سامنے آئیں گے۔

محسن نقوی نے اعلان کیا کہ آئندہ چند روز میں ٹریفک پولیس میں واضح اصلاحات نظر آئیں گی۔ اسی طرح ڈرائیونگ اسکول، ڈرائیونگ لائسنس کے نظام اور سروس سینٹرز میں بھی بہتری لائی جائے گی۔

وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ پولیس اسٹیشنز میں بھی اصلاحات کی جائیں گی، اور یہ بات بالکل واضح ہے کہ اسلام آباد پولیس حکومت کی اولین ترجیح ہے، جس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں ماڈل جیل کی تعمیر تکمیل کے مراحل میں، وزیرداخلہ نے ڈیڈلائن دیدی

انہوں نے پولیس فورس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت پولیس کی فلاح و بہبود اور استعداد کار میں اضافے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی، اگر تعاون کا جذبہ برقرار رکھا گیا تو اس کے نتائج بہت جلد سب کے سامنے آ جائیں گے۔

محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ان شاء اللہ ٹریفک پولیس میں اصلاحات نظر آئیں گی، ڈرائیونگ اسکولز میں بہتری آئے گی، ڈرائیونگ لائسنس کے نظام کو جدید بنایا جائے گا اور سروس ڈیلیوری کے دیگر شعبوں میں بھی نمایاں اصلاحات متعارف کرائی جائیں گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

عثمان طارق کا ایکشن آئی سی سی قوانین کے مطابق ہے، بھارتی امپائر کا اعتراف، انڈین ٹیم میں خوف کا عالم

حکومت عالمی قوتوں کی پراکسی بننے کی کوشش نہ کرے، حافظ نعیم اور مولانا فضل الرحمان کی مشترکہ پریس کانفرنس

سوئنگ سلطان وسیم اکرم سیالکوٹ اسٹالینز کے صدر مقرر

بنگلہ دیش کے اپوزیشن اتحاد کا اجلاس: صحت مند سیاست کے فروغ کی ضرورت پر زور

مخصوص ڈاکٹر کے معاملے پر پی ٹی آئی سپریم کورٹ جائے، حکومت مداخلت نہیں کرے گی، رانا ثنا اللہ

ویڈیو

عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟

پاکستان-انڈیا ٹی20: خواتین شائقین کی قومی ٹیم سےامیدیں

عمران خان سے سیاسی اختلافات ذاتی دشمنی نہیں، آنکھ کی تکلیف پر سیاست کرنا مجرمانہ کوشش ہے، طارق فضل چوہدری

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

تہذیب اور نظریہ: ایک بنیادی مغالطہ