سابق بھارتی کرکٹر روی چندرن ایشون کے بعد بھارت کے معروف انٹرنیشنل امپائر انیل چوہدری نے بھی پاکستانی اسپنر عثمان طارق کے بولنگ ایکشن کو درست قرار دے دیا ہے، جس کے باعث انڈین ٹیم میں خوف کا عالم ہے اور سابق بھارتی کرکٹر بھارتی کھلاڑیوں کو مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ دوران میچ منع کردیں کہ وہ نہیں کھیلیں گے۔
آئی سی سی مینز ٹی20 ورلڈ کپ میں اتوار کو پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے اہم میچ سے قبل پاکستانی اسپن اٹیک، خصوصاً عثمان طارق کے ایکشن پر بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا میں غیر معمولی بحث جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عثمان طارق نے کیمرون گرین کو ’روتے بچے‘ سے تشبیہ کیوں دی؟
بھارتی حلقوں کی جانب سے عثمان طارق کے بولنگ ایکشن پر بلاجواز اعتراضات سامنے آرہے ہیں، تاہم ماہرین اور امپائرز ان خدشات کو مسترد کر چکے ہیں۔
عثمان طارق کا بولنگ ایکشن بظاہر عام اسپنرز سے مختلف دکھائی دیتا ہے، لیکن وہ آئی سی سی کے قوانین کے مطابق کلیئر ہیں، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ٹی20 ورلڈ کپ میں امریکا کے خلاف میچ میں شرکت کی اور مؤثر بولنگ کا مظاہرہ کیا۔
Ashwin's idea that a batsman can pull out isn't as clear-cut as he makes it seem.
Umpire Anil Chaudhary explained on Jatin Sapru's show that it only applies if there's a clear, obvious change in the pause.
If it's part of Usman Tariq's usual action, it's considered legal.
If… https://t.co/gI9zswjnVX pic.twitter.com/zi5ieR9Pu5
— Kh4N PCT (@Kh4N_PCT) February 13, 2026
سابق بھارتی کرکٹر روی چندرن ایشون کے بعد اب بھارتی امپائر انیل چوہدری نے بھی ایک بھارتی ڈیجیٹل پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ عثمان طارق کا ایکشن مکمل طور پر درست ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عثمان طارق کی زمبابوے کے خلاف شاندار ہیٹ ٹرک
انیل چوہدری کے مطابق عثمان طارق ہر گیند اپنے مخصوص انداز اور روٹین کے ساتھ کرتے ہیں، اور جب تک وہ اسی انداز میں بولنگ کرتے رہیں گے، کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوگا۔
انیل چوہدری نے مزید کہا کہ مسئلہ اس وقت سامنے آسکتا ہے جب عثمان طارق اپنے معمول کے ایکشن سے ہٹ کر بولنگ کریں۔ اگر ان کے ایکشن میں واضح تبدیلی نظر آئے تو اس صورت میں بیٹر کو امپائر سے رجوع کرنے کا حق حاصل ہوگا۔
انہوں نے ماضی کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ کئی بین الاقوامی کھلاڑیوں کو اس وقت روکا گیا جب انہوں نے اپنے روٹین ایکشن سے ہٹ کر گیند کرائی۔ تاہم عثمان طارق چونکہ تمام گیندیں ایک ہی انداز میں کرتے ہیں، اس لیے ان پر اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سابق کپتان راشد لطیف نے عثمان طارق کی تصویر کے ساتھ غیر قانونی بولنگ کا قانون کیوں یاد دلایا؟
انیل چوہدری کے مطابق اگر کسی موقع پر بیٹر گیند کھیلنے سے انکار کرے اور امپائر کو محسوس ہو کہ بولر اپنے روٹین ایکشن کے مطابق ہی بولنگ کررہا ہے تو ایسی صورت میں بیٹر کو وقت ضائع کرنے پر وارننگ دی جاسکتی ہے۔
اس سے قبل بھارتی کرکٹر روی چندرن ایشون بھی یہ واضح کرچکے ہیں کہ بولنگ ایکشن کی حتمی جانچ آئی سی سی کے ٹیسٹنگ سینٹرز میں ہوتی ہے، اور آئی سی سی قوانین کے تحت 15 ڈگری تک خم کو جائز قرار دیا گیا ہے۔
ان کے مطابق بولنگ کے دوران رکنا بھی قوانین کے دائرے میں آتا ہے، بشرطیکہ یہ بولر کے معمول کے ایکشن کا حصہ ہو۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی20 ورلڈ کپ اہم معرکہ، پاکستانی اسپنرز بھارتی ٹیم کے لیے سب سے بڑا خطرہ؟
ان بیانات کے بعد واضح ہو گیا ہے کہ عثمان طارق کا ایکشن قانونی ہے اور بھارتی خدشات کی کوئی مضبوط بنیاد موجود نہیں، دوسری جانب بھارتی کرکٹ ٹیم میں عثمان طارق کا خوف واضح ہے، یہی وجہ ہے کہ بھارتی حلقوں کی جانب سے عثمان طارق کے بولنگ ایکشن پر بلاجواز اعتراضات سامنے آرہے ہیں۔














