2014 میں برسرِ اقتدار آنے کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی یعنی بی جے پی کے دورِ حکومت میں ایسا ماحول پروان چڑھا ہے جہاں اختلافِ رائے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
ہندوتوا نظریے پر تنقید کرنے والی آوازوں کو یا تو قید کے ذریعے خاموش کیا گیا یا تشدد کے ذریعے خوفزدہ کیا گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق دہلی یونیورسٹی میں پیش آنے والا حالیہ واقعہ اسی رجحان کی عکاسی کرتا ہے، جہاں معروف مورخ پروفیسر سید عرفان حبیب پر اس وقت پانی سے بھری بالٹی انڈیل دی گئی جب وہ آرٹس فیکلٹی میں منعقدہ ’پیپلز لٹریچر فیسٹیول: سمتا اتسو‘ کے دوران طلبا سے خطاب کر رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں مسلمانوں سے بدترین امتیازی سلوک پر مولانا ارشد مدنی کے انکشافات، بی جے پی تلملا اٹھی
یہ پروگرام بائیں بازو سے وابستہ طلبا تنظیم آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے یونیورسٹی کے سرکاری ادبی میلے کے متبادل کے طور پر منعقد کیا تھا۔
پروفیسر حبیب نے میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے لگ بھگ 20 منٹ گفتگو کی ہوگی کہ اچانک میرے پیچھے دیوار کی جانب سے بالٹی بھر پانی پھینکا گیا۔‘
انہوں نے کہا کہ یہ عمل پریشان کن اور چونکا دینے والا تھا، تاہم انہوں نے اپنی تقریر جاری رکھی، واقعے کی ویڈیو کچھ ہی دیر بعد سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔
مزید پڑھیں: نیتن نبین بی جے پی کے 12ویں صدر مقرر، مودی کے بھارت میں جمہوریت نہیں وفاداری ہی کامیابی کی کنجی
واقعے کے بعد اے آئی ایس اے نے الزام عائد کیا کہ آر ایس ایس سے وابستہ طلبا تنظیم کے ارکان اس حملے میں ملوث تھے، تنظیم کے مطابق اے بی وی پی کے کارکنوں نے پانی پھینک کر اور نعرے بازی کرتے ہوئے تقریب میں خلل ڈالا جب پروفیسر عرفان حبیب خطاب کر رہے تھے۔
اے آئی ایس اے نے اس واقعے کو مساوات اور سماجی انصاف پر گفتگو کے لیے قائم پلیٹ فارم پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی کیمپس میں اختلافِ رائے کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
تنظیم کا کہنا تھا کہ سرکاری فیسٹیول کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ اسے ’رجعت پسند پروپیگنڈے اور فرقہ وارانہ بیانیے‘ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، لہذا ’سمتا اتسو‘ کا مقصد سرکاری فیسٹیول کے مقابل ایک متبادل فراہم کرنا تھا۔
مزید پڑھیں: بھارت میں ریپ کے ملزم بی جے پی رہنما کلدیپ سنگھ کو ضمانت ملنے پر احتجاج
بائیں بازو کی جانب سے منعقدہ اس تقریب میں معاشرے اور جامعات میں ذات پات کے مسائل سمیت اہم سماجی موضوعات پر گفتگو کی گئی، جب کہ انسدادِ ذات پات شاعری اور گیتوں پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔
1953 میں پیدا ہونے والے سائنس کے مورخ اور دانشور پروفیسر عرفان حبیب نے اپنے خطاب میں ’تاریخی حذف‘ کی کوششوں کی نشاندہی کی اور مسخ شدہ تاریخ کو چیلنج کرنے میں جامعات کے کردار پر زور دیا۔
اس واقعے کے بعد دہلی یونیورسٹی میں کیمپس سیکیورٹی اور سیاسی ماحول سے متعلق بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ طلبا اور اساتذہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا مقررین اور شرکا کے تحفظ کے لیے مناسب اقدامات موجود ہیں یا نہیں۔













