بنگلہ دیش میں طارق رحمان کی وزراتِ عظمیٰ: پاک بنگلہ دیش تعلقات میں تاریخی پیشرفت کے مواقع

اتوار 15 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جنوبی ایشیا کی بدلتی ہوئی سیاسی فضا میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات ایک نئے موڑ پر کھڑے دکھائی دے رہے ہیں۔ بنگلہ دیش میں سیاسی تبدیلی کے بعد اگر طارق رحمان وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالتے ہیں تو یہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور معاشی روابط کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاک بنگلہ دیش تعلقات میں بہتری کو کراچی میں مقیم بنگالی آبادی کس نظر سے دیکھ رہی ہے؟

گزشتہ روز پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف کی جانب سے طارق رحمان کو ٹیلیفونک مبارکباد اور پاکستان کے دورے کی دعوت کو خطے میں گرمجوشی کی نئی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ حسینہ واجد کے دور کے بعد پیدا ہونے والی نئی سیاسی فضا میں سوال یہ ہے کہ کیا یہ پیشرفت دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ فاصلے کم کر کے تعلقات کو ایک مضبوط اور پائیدار شراکت داری میں بدل سکے گی؟ اور اگر ایسا ہوتا ہے تو تجارت، معیشت، سرمایہ کاری اور علاقائی تعاون کے کن شعبوں میں عملی پیش رفت متوقع ہے؟

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے پاکستان کے سابق وزیرِ خارجہ اور سینiئر سفارتکار جلیل عباس جیلانی کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش میں تقریباً 15 برس بعد ہونے والے آزاد اور شفاف انتخابات جنوبی ایشیا کی سیاست میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے بقول سابق وزیرِاعظم حسینہ واجد کے دورِ حکومت میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات تاریخی نچلی سطح تک پہنچ گئے تھے۔

ان کے مطابق اس دور میں ڈھاکہ کی خارجہ اور سیکیورٹی پالیسی پر بھارت کا اثر نمایاں تھا، جس کے باعث اسلام آباد اور ڈھاکہ کے درمیان سیاسی اعتماد میں کمی اور سفارتی فاصلے بڑھتے گئے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ حسینہ واجد کی رخصتی کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں بتدریج بہتری آنا شروع ہو گئی تھی، جس کے عملی مظاہر اب سامنے آ رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست پروازوں کی بحالی، سفارتی رابطوں میں اضافہ، پارلیمانی اور کاروباری وفود کا تبادلہ، اور عوامی سطح پر روابط کی بحالی اس مثبت رجحان کی عکاسی کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ڈھاکا میں پاک بنگلہ دیش عسکری تعاون پر اہم ملاقات

جلیل احمد جیلانی کا مزید کہنا تھا کہ اگر نئی حکومت متوازن اور خودمختار خارجہ پالیسی اپناتی ہے تو سیاسی سطح پر اعتماد سازی کے اقدامات تیز ہو سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں تجارت، ٹیکسٹائل، ادویات، زرعی مصنوعات، آئی ٹی اور شپنگ کے شعبوں میں تعاون بڑھنے کے امکانات روشن ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ نئی قیادت کو اندرونی اور بیرونی دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ان کے بقول بعض ذرائع یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ بھارتی خفیہ ادارے RAW کا اثر و رسوخ بنگلہ دیش کے مختلف اداروں میں موجود رہا ہے، اور نئی حکومت کے لیے ریاستی اداروں کو مکمل طور پر خودمختار اور غیر جانب دار بنانا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔

جلیل عباس جیلانی کے مطابق اگر ڈھاکہ داخلی استحکام کو یقینی بناتے ہوئے علاقائی طاقتوں کے درمیان توازن قائم رکھنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات نہ صرف ماضی کی تلخیوں سے آگے بڑھ سکتے ہیں بلکہ جنوبی ایشیا میں معاشی تعاون اور علاقائی رابطہ کاری کے ایک نئے باب کا آغاز بھی ممکن ہو سکتا ہے۔

اسسٹنٹ ریسرچ ایسوسی ایٹ، اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ (آئی پی آر آئی) فیضان ریاض کے مطابق شیخ حسینہ واجد کی رخصتی کے بعد بنگلہ دیش کی 15 سالہ بھارت مرکز پالیسی کا خاتمہ ہوتے دکھائی دے رہا ہے، اور اس کی جگہ ایسی حکومت ابھر رہی ہے جو پاکستان کے ساتھ نسبتاً مفاہمتی اور متوازن تعلقات کی خواہاں ہے۔ ان کے بقول ڈھاکہ اب اپنی اسٹریٹجک صف بندی کو متنوع بنانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ خارجہ پالیسی میں زیادہ خودمختاری اور علاقائی توازن قائم کیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں فسطائیت سے پاک ریاستی سفر کا آغاز ہو چکا، طارق رحمان کی پریس بریفنگ

فیضان ریاض کہتے ہیں کہ حالیہ پیشرفتیں اسی تبدیلی کی عکاس ہیں۔ 1971 کے بعد پہلی مرتبہ پاکستان سے براہِ راست کارگو شپ کی آمد اور 2026 میں دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست پروازوں کے آغاز نے سفارتی اور معاشی تعاون کی نئی راہیں کھولی ہیں۔ ان کے مطابق یہ اقدامات محض علامتی نہیں بلکہ اعتماد سازی کے عملی مظاہر ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر سیاسی استحکام برقرار رہا تو آئندہ برسوں میں دوطرفہ تجارت کا حجم 3 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔ دفاعی اور سیکیورٹی تعاون بھی بتدریج آگے بڑھ رہا ہے۔ مثال کے طور پر بنگلہ دیش کے ’فورسز گول 2030‘ پروگرام کے تحت پاکستان کے جے ایف-17 تھنڈر طیاروں کی خریداری پر بات چیت، اور پاکستان کی میزبانی میں ہونے والی AMAN 2025 بحری مشقوں میں شرکت، دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اعتماد کا اشارہ ہیں۔

فیضان ریاض کے مطابق اگر طارق رحمان اقتدار سنبھالتے ہیں تو یہ رجحان مزید مضبوط ہوگا اور سیاسی، معاشی اور دفاعی شعبوں میں تعاون کا دائرہ وسیع ہو سکتا ہے۔ ان کے بقول بدلتی ہوئی علاقائی حرکیات میں پاکستان اور بنگلہ دیش ایک دوسرے کے لیے نئی معاشی منڈیاں، دفاعی شراکت دار اور سفارتی ہم آہنگی کے مواقع فراہم کر سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

دل کے دورے کے بارے میں سب سے بڑا غلط فہمی کیا ہے؟

غزہ کی بحالی کے لیے ہر ممکن تعاون کو تیار ہیں، ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان

اگلے 12 سے 18 ماہ میں لاکھوں ملازمین اپنی نوکریوں سے محروم ہو سکتے ہیں

وزیراعظم کا دورۂ امریکا: عالمی رہنماؤں سے اہم ملاقاتیں، علاقائی و عالمی امور پر تبادلۂ خیال

سپریم کورٹ: سروس میٹر کیس میں وفاقی حکومت کی اپیل خارج، تاخیر معاف کرنے کی استدعا مسترد

ویڈیو

ٹوڈے بائٹس رمضان فیسٹیول، ریاض میں افطار کے لیے فیملیز کی پسندیدہ منزل

پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے واقعی سنجیدہ ہے؟

وزیرستان کی کم عمر کرکٹر آئینہ جو محنت کی پچ پر کامیابی کی اننگز کھیلنا چاہتی ہیں

کالم / تجزیہ

عماد وسیم کی دوسری شادی پر ہنگامہ کیوں؟

بنگلہ دیشی الیکشن، اور سونے کی درست ترتیب

عمران خان کو تحریک انصاف سے بچاؤ