امریکا نے شام سے 5 ہزار 700 سے زائد مشتبہ داعش (آئی ایس آئی ایل) قیدیوں کو عراق منتقل کرنے کا عمل مکمل کرلیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق ’23 روزہ مشن کا آغاز 21 جنوری کو ہوا، جس کے دوران شام کی حراستی تنصیبات سے 5 ہزار 700 سے زائد بالغ مرد داعش جنگجوؤں کو عراقی حکام کے حوالے کیا گیا۔ آپریشن 12 فروری کو شمال مشرقی شام سے عراق تک رات کی پرواز کے ساتھ مکمل ہوا۔’
یہ بھی پڑھیے: امریکا کا نائیجیریا میں داعش کے خلاف فضائی حملہ، متعدد شدت پسند ہلاک
امریکا اس سے قبل تقریباً 7 ہزار قیدیوں کی منتقلی کا اعلان کرچکا تھا۔ یہ قیدی تقریباً 60 ممالک سے تعلق رکھتے ہیں اور کئی برسوں سے کرد قیادت میں قائم سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے زیر انتظام جیلوں میں قید تھے۔
عراق کے نیشنل سینٹر فار انٹرنیشنل جوڈیشل کوآپریشن کے مطابق 5 ہزار 704 قیدی عراق پہنچے ہیں، جن میں 3 ہزار 543 شامی، 467 عراقی اور 710 دیگر عرب ممالک کے شہری شامل ہیں، جبکہ 980 سے زائد افراد یورپ، ایشیا، آسٹریلیا اور امریکہ سے تعلق رکھتے ہیں۔
سینٹکام کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا کہ قیدیوں کی منتقلی علاقائی سلامتی کے لیے ضروری تھی اور مشن کامیابی سے مکمل کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: کابل کے چینی ریسٹورنٹ میں دھماکا، داعش نے ذمہ داری قبول کرلی
داعش نے 2014 میں شام اور عراق کے وسیع علاقوں پر قبضہ کیا تھا۔ 2017 میں عراق اور 2019 میں شام میں اس گروہ کو شکست دی گئی، جس کے بعد ہزاروں مشتبہ جنگجوؤں کو جیلوں اور کیمپوں میں رکھا گیا۔
عراقی حکام کے مطابق منتقل شدہ قیدیوں سے تفتیش کے بعد قانونی کارروائی کی جائے گی۔














