ریاست کی تشکیل کو اگر نظریاتی زاویے سے دیکھا جائے تو وہ کسی ایک لمحے کا نتیجہ نہیں ہوتی بلکہ ایک تدریجی اور منظم عمل کا حاصل ہوتی ہے جس میں سیاسی مرکزیت، ادارہ جاتی ارتقا اور اجتماعی مشروعیت باہم مربوط عناصر کے طور پر کام کرتے ہیں۔
سعودی عرب کا یومِ تاسیس، جو 22 فروری کو منایا جاتا ہے، اسی تدریجی عمل کی ابتداء کی علامت ہے۔ 1727 میں امام محمد بن سعود کی قیادت میں درعیہ میں قائم ہونے والی پہلی سعودی ریاست کو ایک مقامی سیاسی واقعہ سمجھنا اس کے تاریخی اور نظری مفہوم کو محدود کر دینا ہوگا۔ اسے ایک ایسے سیاسی نظم کے آغاز کے طور پر دیکھنا زیادہ موزوں ہے جس نے جزیرہ عرب میں مرکزیت اور استحکام کی سمت متعین کی۔
اٹھارویں صدی کے عرب معاشرے میں اقتدار زیادہ تر قبائلی ساخت میں منقسم تھا جہاں سیاسی اختیار مقامی سطح پر مرتکز تھا اور وسیع تر مرکزیت کا تصور کمزور تھا۔ ایسے ماحول میں درعیہ کو ایک منظم سیاسی مرکز کے طور پر ابھارنا ریاستی شعور کی تشکیل کا مرحلہ تھا۔ یہاں اقتدار کو شخصی غلبے سے بلند کر کے نظم، قانون اور اجتماعی ذمہ داری کے تصور سے وابستہ کیا گیا۔ ریاستی تشکیل کے ابتدائی مراحل میں یہی تبدیلی بنیادی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ اسی سے ادارہ جاتی ڈھانچے کی بنیاد پڑتی ہے۔
درعیہ کا جغرافیہ بھی اس عمل میں محض پس منظر نہیں بلکہ فعال عنصر تھا۔ نجد کے قلب میں واقع یہ مقام داخلی آبادیوں اور تجارتی راستوں کے درمیان ایک ربطی حیثیت رکھتا تھا۔ سیاسی مرکزیت کے قیام کے لیے ایسا جغرافیائی مقام جو انتظامی رسائی اور سماجی رابطے کو ممکن بنائے، غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ریاستی ارتقا ہمیشہ کسی جغرافیائی مرکز سے آغاز کرتا ہے جو بتدریج انتظامی وسعت اور سماجی انضمام کا ذریعہ بنتا ہے۔ اس تناظر میں یومِ تاسیس سیاسی جغرافیہ کی تشکیل کا بھی حوالہ ہے۔
1932 میں مملکت سعودی عرب کا قیام اسی طویل تاریخی عمل کی تکمیل تھا جس کی ابتدائی بنیاد 1727 میں رکھی گئی تھی۔ یومِ تاسیس اور قومی دن کے درمیان فرق محض تقویمی نہیں بلکہ معنوی ہے۔ قومی دن رسمی قیام کی علامت ہے جبکہ یومِ تاسیس اس فکری اور سیاسی مرحلے کی یاد دہانی ہے جہاں سے ریاستی نظم کا آغاز ہوا۔ یہ امتیاز اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ ریاست اپنی ابتدا کو شعوری طور پر اپنی شناخت کا حصہ بناتی ہے اور تاریخی تسلسل کو مشروعیت کے ذریعہ میں تبدیل کرتی ہے۔
1938 میں دمام کے مقام پر تیل کی دریافت نے سعودی معیشت کو نئی جہت دی، لیکن سیاسی معیشت کے اصول کے مطابق وسائل بذات خود استحکام کی ضمانت نہیں ہوتے۔ اصل اہمیت اس بات کی ہوتی ہے کہ ریاست وسائل کو کس حد تک ادارہ جاتی نظم میں منتقل کرتی ہے۔ سعودی عرب نے تیل کی آمدنی کو بنیادی ڈھانچے، تعلیم، صحت اور شہری ترقی میں منظم انداز سے سرمایہ کاری کے ذریعے استعمال کیا۔ یہ منتقلی محض معاشی وسعت نہیں بلکہ ریاستی تنظیم کی مضبوطی کا ذریعہ بنی۔ جدید انتظامی ڈھانچوں، منصوبہ بندی اور شہری ارتقا نے ریاستی استحکام کو تقویت دی اور مرکزیت کو پائیدار بنایا۔
اکیسویں صدی میں Vision 2030 کو اسی تاریخی تسلسل میں دیکھا جانا چاہیے۔ یہ منصوبہ محض معاشی اصلاحات کا پروگرام نہیں بلکہ ریاستی حکمت عملی کی ازسرنو ترتیب ہے۔ معیشت کی تنوع پذیری، انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری، ثقافتی وسیاحتی شعبوں کی ترقی اور عالمی شراکت داری کی توسیع اس امر کی علامت ہیں کہ ریاست اپنے ارتقائی عمل کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کر رہی ہے۔ الدرعیہ کی تاریخی بحالی اس بات کی مثال ہے کہ روایت کو جدید ریاستی بیانیے سے الگ نہیں کیا گیا بلکہ اسے ریاستی شناخت کا تسلسل بنایا گیا ہے۔
ریاستی مشروعیت کسی ایک اعلان سے پیدا نہیں ہوتی بلکہ تاریخی تسلسل، سماجی قبولیت اور ادارہ جاتی استحکام کے امتزاج سے تشکیل پاتی ہے۔ سعودی تجربہ اس اعتبار سے قابل مطالعہ ہے کہ اس میں ابتدائی مرکزیت کو بتدریج ایک جامع ریاستی نظم میں تبدیل کیا گیا اور اجتماعی شناخت کو اس کے ساتھ مربوط رکھا گیا۔ یومِ تاسیس اسی شعوری یادداشت کا حصہ ہے جس کے ذریعے ریاست اپنی ابتدا کو حال اور مستقبل کے ساتھ مربوط کرتی ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات بھی اسی تاریخی اور نظری تناظر میں قابل فہم ہیں۔ 1947 کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی روابط قائم ہوے اور وقت کے ساتھ اقتصادی، دفاعی اور سماجی سطح پر یہ تعلق مضبوط ہوتا گیا۔ لاکھوں پاکستانیوں کی سعودی عرب میں موجودگی نے اس ربط کو انسانی اور عملی جہت دی۔ اس پس منظر میں یومِ تاسیس ایک ایسے ریاستی ارتقا کی علامت ہے جسے پاکستانی قاری بھی نظریاتی اور سیاسی سطح پر سمجھ سکتا ہے۔
یومِ تاسیس کو ایک یادگاری تقریب کے بجائے ریاستی تشکیل کے اولین مرحلے کی شعوری بازیافت کے طور پر سمجھنا زیادہ موزوں ہے۔ 1727 سے موجودہ عہد تک کا سفر ایک تدریجی، منظم اور فکری عمل کی نمائندگی کرتا ہے جس میں مرکزیت، ادارہ سازی اور اسٹریٹجک بصیرت باہم مربوط رہے ہیں۔ ریاست کی تشکیل ایک وقتی واقعہ نہیں بلکہ تاریخی تسلسل کا منظم اظہار ہوتی ہے۔ اسی تناظر میں یومِ تاسیس ریاستی تشخص کے ابتدائی مرحلے کی تجدید اور سیاسی نظم کے ارتقائی عمل کی علمی تفہیم کا موقع فراہم کرتا ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔












