میانمار (سابقہ برما) میں سرگرم مسلح گروہ ارکان آرمی کی تحویل میں موجود 73 ماہی گیروں کو رہا کروا کر وطن واپس لے آیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف جماعت اسلامی بنگلہ دیش و اتحادیوں کا احتجاج
بارڈر گارڈ بنگلہ دیش (بی جی بی) کے مطابق ماہی گیروں کی حوالگی دریائے ناف کی زیرو لائن پر سرحدی سطح کے مذاکرات کے بعد عمل میں آئی۔
رہائی پانے والے افراد کو ضلع کاکس بازار کی تحصیل ٹیکناف میں جالیہ پارا ٹرانزٹ پوائنٹ کے ذریعے ملک میں داخل کیا گیا۔
بی جی بی رامو سیکٹر کے کمانڈر کرنل محبوب الدین احمد نے بتایا کہ بی جی بی کا ایک وفد صبح سویرے حوالگی کے مقام پر پہنچا۔ ان کے مطابق تمام ضروری کارروائی مکمل کرنے کے بعد ماہی گیروں کو بحفاظت مقامی انتظامیہ کے نمائندوں کے ذریعے ان کے اہلخانہ کے حوالے کر دیا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ مسلسل سفارتی رابطوں اور سرحدی ہم آہنگی کی کوششوں کے نتیجے میں یہ رہائی ممکن ہوئی۔ اطلاعات کے مطابق ارکان آرمی کا مؤقف تھا کہ ماہی گیر میانمار کی سمندری حدود میں داخل ہوئے تھے جس کے باعث انہیں حراست میں لیا گیا۔
مزید پڑھیے: بنگلہ دیش میں مذہبی جماعتوں کی انتخابات میں بڑی کامیابی کی وجہ کیا ہے؟
رہا ہونے والے ماہی گیروں میں شامل نورالاسلام نے وطن واپسی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اب بھی متعدد افراد زیرِ حراست ہیں۔
مزیدع پڑھیں: بنگلہ دیش کے وزیراعظم کی حلف برداری، احسن اقبال پاکستان کی نمائندگی کریں گے
سرکاری اندازوں کے مطابق دریائے ناف اور خلیج بنگال کے علاقوں سے مختلف اوقات میں تقریباً 200 بنگلہ دیشی ماہی گیروں کو حراست میں لیا گیا تھا۔ حالیہ 73 افراد کی واپسی کے بعد باقی ماندہ ماہی گیروں کی رہائی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔














