امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جنیوا میں ہونے والے جوہری مذاکرات میں بالواسطہ طور پر شریک ہوں گے اور انہیں امید ہے کہ تہران معاہدہ کرنے میں سنجیدہ ہے۔ مذاکرات سے قبل خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے اور امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں دوسرا طیارہ بردار بحری جہاز بھیج دیا ہے۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں امریکا اور ایران آمنے سامنے، سخت بیانات کا تبادلہ
ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جنیوا میں منصفانہ معاہدے کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ دھمکیوں کے آگے جھکنا قابل قبول نہیں۔ عالمی جوہری ادارہ (International Atomic Energy Agency) ایران سے افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے متعلق وضاحت اور تنصیبات تک مکمل رسائی کا مطالبہ کر رہا ہے۔
مزید پڑھیں: امریکا اور ایران کے مابین براہِ راست مذاکرات مسقط میں شروع، پاکستان سمیت کوئی ملک شریک نہیں
امریکا یورینیم افزودگی روکنے پر زور دے رہا ہے جبکہ ایران پابندیوں میں نرمی کے بدلے محدود جوہری پابندیوں پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔ مذاکرات کی کامیابی خطے کی سلامتی اور عالمی تیل منڈی کے لیے اہم قرار دی جا رہی ہے۔














