بنگلہ دیش میں نئے اراکین پارلیمنٹ نے حلف اٹھا لیا

منگل 17 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بنگلہ دیش میں حالیہ انتخابات کے بعد منتخب ہونے والے اراکین نے حلف لے اٹھالیا ہے۔

13ویں قومی پارلیمنٹ کے نومنتخب ارکان نے ڈھاکا میں موجود پارلیمنٹ ہاؤس میں حلف لیا جبکہ نئی کابینہ کی تقریبِ حلف برداری شام میں منعقد ہوگی۔

یہ پیش رفت عوامی لیگ کے 17 سالہ دورِ اقتدار کے خاتمے کے 18 ماہ بعد سامنے آئی ہے، جس کے بعد طویل عبوری انتظامیہ کے بعد ایک منتخب حکومت قائم ہو رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: احسن اقبال نو منتخب وزیراعظم کی تقریبِ حلف برداری میں شرکت کے لیے بنگلہ دیش پہنچ گئے

طارق رحمان، جو بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے چیئرمین اور پارلیمنٹ میں اکثریتی جماعت کے قائد ہیں، نئی حکومت کی قیادت کریں گے۔ ارکان کے حلف کے بعد اکثریتی جماعت اپنا پارلیمانی لیڈر منتخب کرے گی، جسے صدر آئینی تقاضوں کے مطابق حکومت بنانے کی دعوت دیں گے۔

اطلاعات تھیں کہ نومنتخب ارکان پارلیمانی حلف کے ساتھ مجوزہ آئینی اصلاحاتی کونسل کے رکن کی حیثیت سے بھی الگ حلف اٹھائیں گے، تاہم مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلاف کے باعث اس عمل پر غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ بی این پی کے سینیئر رہنما صلاح الدین احمد نے کہا ہے کہ آئینی ترمیم اور قانونی تقاضے مکمل ہونے کے بعد ہی ایسا ممکن ہوگا۔

بی این پی ذرائع کے مطابق نئی کابینہ میں تجربہ کار سیاستدانوں، نوجوان قیادت اور ٹیکنوکریٹس کا امتزاج شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ انتخابی وعدوں کی تکمیل، انتظامی اصلاحات میں تیزی اور نئی قیادت کو آگے لانے پر زور دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: محمد یونس کی طارق رحمان کو مبارکباد، بی این پی کی جیت کو تاریخی قرار دیا

بی این پی کے سیکریٹری جنرل مرزا فخر الاسلام عالمگیر سمیت کئی سینیئر رہنماؤں کو اہم ذمہ داریاں ملنے کی توقع ہے۔

 انتظامات اور بین الاقوامی شخصیات کی شرکت

پارلیمنٹ ہاؤس کے اطراف سخت سیکیورٹی نافذ کردی گئی ہے۔ اطراف کی سڑکوں پر ٹریفک کنٹرول کیا جا رہا ہے جبکہ سی سی ٹی وی نگرانی سمیت دیگر حفاظتی اقدامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔

نئے وزیراعظم کی حلف برداری میں شرکت کے لیے متعدد عالمی رہنما ڈھاکا پہنچ گئے ہیں، جن میں مالدیپ کے صدر محمد معیزو، بھوٹان کے وزیرِ اعظم شیرنگ توبگے، بھارت کی لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا اور پاکستان کے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال شامل ہیں۔

عبوری قیادت نے پاکستان، بھارت، چین، سعودی عرب اور ملائیشیا سمیت 13 ممالک کے سربراہان کو بھی دعوت دی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

دل کے دورے کے بارے میں سب سے بڑا غلط فہمی کیا ہے؟

غزہ کی بحالی کے لیے ہر ممکن تعاون کو تیار ہیں، ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان

اگلے 12 سے 18 ماہ میں لاکھوں ملازمین اپنی نوکریوں سے محروم ہو سکتے ہیں

وزیراعظم کا دورۂ امریکا: عالمی رہنماؤں سے اہم ملاقاتیں، علاقائی و عالمی امور پر تبادلۂ خیال

سپریم کورٹ: سروس میٹر کیس میں وفاقی حکومت کی اپیل خارج، تاخیر معاف کرنے کی استدعا مسترد

ویڈیو

ٹوڈے بائٹس رمضان فیسٹیول، ریاض میں افطار کے لیے فیملیز کی پسندیدہ منزل

پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے واقعی سنجیدہ ہے؟

وزیرستان کی کم عمر کرکٹر آئینہ جو محنت کی پچ پر کامیابی کی اننگز کھیلنا چاہتی ہیں

کالم / تجزیہ

عماد وسیم کی دوسری شادی پر ہنگامہ کیوں؟

بنگلہ دیشی الیکشن، اور سونے کی درست ترتیب

عمران خان کو تحریک انصاف سے بچاؤ