وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بینائی سے متعلق بے بنیاد پروپیگنڈا کیا گیا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کو علاج کی ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت شفافیت پر یقین رکھتی ہے اور اسی لیے کہا گیا کہ اگر ضرورت ہو تو وہ اپنے کسی ذاتی ڈاکٹر کا نام بھی دے دیں تاکہ طبی معائنے کے عمل کو مزید واضح بنایا جا سکے۔
مزید پڑھیں: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی سعودی سفیر سے ملاقات، تعلقات مزید مستحکم بنانے پر اتفاق
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ اپوزیشن سے رابطوں کا عمل کسی خط کے بعد شروع نہیں ہوا بلکہ محمود خان اچکزئی کے خط لکھنے سے پہلے ہی حکومت اپوزیشن سے رابطے میں تھی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سنجیدہ مذاکرات اور معاملات کے حل پر یقین رکھتی ہے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت نے ابتدا ہی میں واضح کر دیا تھا کہ کوئی بھی قیدی ہو، اسے آئین و قانون کے مطابق علاج کی مکمل سہولت فراہم کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے معاملے پر بھی یہی اصول اپنایا گیا۔
ہم نے پی ٹی آئی قیادت سے ایک غیر سیاسی آئی اسپیشلسٹ ڈاکٹر کا نام دینے کی درخواست کی، جس پر انہوں نے کہا کہ ہماری فیملی کا بندہ بھی ساتھ ہو۔ ہم نے اس پر اعتراض نہیں کیا اور قاسم زمان خان کا نام دیا۔
ہم نے دونوں باتیں قبول کر لیں، لیکن انہوں نے کہا کہ عمران خان کو اسپتال ایک ہفتے… pic.twitter.com/jSh8MQUDek— WE News (@WENewsPk) February 17, 2026
انہوں نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے ایک غیر سیاسی ڈاکٹر کا نام مانگا گیا، جس کے بعد کہا گیا کہ فیملی کا نمائندہ بھی ساتھ لے جایا جائے۔ حکومت نے ڈاکٹر قاسم زمان کا نام تجویز کیا۔ بعد ازاں مطالبہ سامنے آیا کہ عمران خان کو ایک ہفتے کے لیے اسپتال منتقل کیا جائے، جس پر حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ فیصلہ ڈاکٹروں کی سفارش پر ہوگا، چاہے وہ ایک ہفتہ ہو یا 2 ہفتے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ آنکھوں کے معاملے پر بے بنیاد پروپیگنڈا کیا گیا۔ ان کے بقول عمران خان کے معالجین نے خود کہا کہ انہیں بہترین طبی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض معاملات میں سب فریقین متفق ہو جاتے ہیں مگر علیمہ خان ویٹو کر دیتی ہیں۔
محسن نقوی نے کہا کہ کچھ اینکرز کی جانب سے یہ تک کہا گیا کہ عمران خان کی پوری آنکھ ضائع ہو چکی ہے، جو حقائق کے منافی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بینائی سے متعلق منفی تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو صحافیوں کو جیل لے جا کر سہولتیں دکھائی جا سکتی ہیں تاکہ تمام شکوک و شبہات دور ہو جائیں۔ ان کے بقول وہ چاہیں تو میڈیا نمائندوں کو خود وہاں لے جا سکتے ہیں تاکہ معاملہ ہمیشہ کے لیے واضح ہو جائے۔
مزید پڑھیں:محسن نقوی بھائی کو ’نااہل‘ اور ’جاہل‘ نہیں کہا، بیان غلط انداز میں پیش ہوا، شعیب اختر کی وضاحت
محسن نقوی نے مزید کہا کہ حکومت پہلے ہی اپوزیشن سے رابطے میں تھی اور محمود خان اچکزئی کے خط سے قبل ہی معاملات پر بات چیت جاری تھی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے واضح یقین دہانی کرائی کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو علاج کی ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی۔
وزیر داخلہ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کے میڈیکل چیک اپ کے لیے ایک نان پولیٹیکل آئی اسپیشلسٹ تجویز کیا گیا اور پی ٹی آئی رہنماؤں سے بھی کہا گیا کہ وہ اپنے اعتماد کے کسی ماہر چشم کا نام دے دیں۔ چیک اپ کے دوران فیملی ممبر کو بھی شامل ہونے کی اجازت دی گئی۔
محسن نقوی نے بتایا کہ معائنے کے بعد بانی پی ٹی آئی قریباً ڈیڑھ گھنٹہ اسپتال میں موجود رہے۔ بعد ازاں ایک ہفتے کے لیے اسپتال میں داخلے کا مطالبہ سامنے آیا، تاہم حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ داخلے کا فیصلہ ڈاکٹروں کی سفارش پر ہوگا۔ مزید ٹیسٹ کرانے کی پیشکش بھی کی گئی تاکہ کسی قسم کا ابہام باقی نہ رہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی، اپوزیشن لیڈر سینیٹ اور بیرسٹر گوہر علی خان کو ملاقات کی دعوت دی گئی، جس کے بعد اپوزیشن رہنماؤں نے پمز اسپتال میں ڈیڑھ گھنٹہ ملاقات کی۔ اس دوران قریباً 45 منٹ تک ڈاکٹروں نے فون پر تفصیلی بریفنگ دی اور میڈیکل رپورٹ بھی شیئر کی گئی، جس پر ڈاکٹرز نے اطمینان کا اظہار کیا۔
مزید پڑھیں: عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی میں واضح بہتری، میڈیکل بورڈ کی رپورٹ جاری
وزیر داخلہ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو اسپتال لانے کا مقصد صرف آنکھ کا علاج تھا اور حکومت یا ادارے اس معاملے کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہتے۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر مصدقہ معلومات پھیلانا اور عوام کو گمراہ کرنا زیادتی ہے۔ اگر سیاسی انتقام مقصود ہوتا تو جیل میں سختی کی جاتی، مگر حکومت نے ہمیشہ قانون اور انسانی تقاضوں کے مطابق اقدامات کیے ہیں۔
محسن نقوی نے کہا کہ بعض رہنما بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت سے زیادہ اپنی سیاست کے بارے میں فکر مند دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سنجیدہ قیادت کی بات سنی جاتی تو آج کی صورتحال پیدا نہ ہوتی اور 9 مئی جیسے واقعات سے بھی بچا جا سکتا تھا۔ انہوں نے زور دیا کہ ذمہ داروں کو خود احتسابی کرنا ہوگی۔
وزیر داخلہ نے دعویٰ کیا کہ اسلام آباد کے ریڈ زون میں خرابی پیدا کرنے کی کوشش ناکام بنا دی گئی ہے اور عدالت کے فیصلوں پر ہر صورت عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔ ان کے بقول فیصلہ عوام کو کرنا ہے کہ وہ سنجیدہ قیادت کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں یا نہیں۔
مزید پڑھیں: نورین نیازی سے منسوب عمران خان کی بصارت میں بہتری کی خبر جعلی ہے، علیمہ خان کی وضاحت
محسن نقوی نے کہا کہ وہ کسی بھی بحران یا مسئلے پر بات چیت کے لیے حاضر ہیں کیونکہ یہ ان کا فرض ہے، تاہم این آر او سے متعلق کسی قسم کی بات چیت ان کا موضوع نہیں۔ قومی مفاد کے معاملات پر گفتگو ہو سکتی ہے لیکن ذاتی رعایتوں پر نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے دہشتگردی کے معاملے پر عالمی سطح پر اپنا مؤقف پیش کرنا شروع کر دیا ہے۔ دہشتگردی کو مظلومیت کا لبادہ اوڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ حقائق دنیا کے سامنے لائے جائیں گے۔ وزیر داخلہ نے دعویٰ کیا کہ بلوچستان میں دہشتگردی کے لیے فنڈنگ میں 3 گنا اضافہ ہوا ہے اور اس کے شواہد موجود ہیں۔ جب تک عالمی برادری حقیقت کو تسلیم نہیں کرے گی، دہشتگردی کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں ہوگا۔













