تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان نے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی حالیہ پریس کانفرنس کو گمراہ کن، حقائق کے منافی اور عوام کو دھوکہ دینے کی ناکام کوشش قرار دے دیا۔
تحریک نے کہا ہے کہ ریاستی منصب پر فائز ہو کر سچ کو مسخ کرنا اخلاقی دیوالیہ پن کی علامت ہے اور آئینی ذمہ داریوں سے کھلی روگردانی کے مترادف ہے۔
مزید پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کی بینائی سے متعلق پروپیگنڈا کیا گیا، علاج کی ہر سہولت دی جا رہی ہے، محسن نقوی
تحریک کا کہنا ہے کہ حکومت سابق وزیراعظم عمران خان کی بگڑتی ہوئی صحت اور جیل میں ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے غیر انسانی سلوک پر پردہ ڈالنے کے لیے من گھڑت بیانیہ تیار کر رہی ہے۔ قوم کو اصل حقائق سے محروم رکھ کر سیاسی تماشہ لگانا ناقابلِ قبول ہے۔
تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان نے واضح کیاکہ طبی معائنے کے دوران سرکاری ڈاکٹروں پر عدم اعتماد اور ذاتی معالج کی موجودگی کی شرط کوئی انفرادی ضد نہیں بلکہ فیملی، پاکستان تحریکِ انصاف کی قیادت اور تحریک کی باہمی مشاورت سے کیا گیا متفقہ فیصلہ ہے۔ عمران خان کی صحت سے متعلق فیصلہ کرنے کا حق صرف ان کی فیملی کو حاصل ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ عمران خان کو طویل اور بدترین قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے، جو بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیار کے مطابق تشدد کے زمرے میں آتا ہے۔ اقوام متحدہ کا ورکنگ گروپ پہلے ہی حراست کو غیرقانونی قرار دے چکا ہے۔
’عدالتوں کو جیل کے اندر منتقل کر کے عوام، میڈیا، فیملی اور پارٹی رہنماؤں کی رسائی تقریباً ختم کر دینا انصاف کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔‘
اعلامیے میں کہا گیا کہ عمران خان کی ذاتی معالج سے آخری ملاقات نومبر 2024 میں ہوئی، فیملی سے ملاقات ڈھائی ماہ سے معطل ہے اور سیاسی رفقا سے ملاقات کو ایک سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔ ایسے حالات میں حکومت کی جانب سے بہترین سہولیات کا دعویٰ حقیقت کے منافی اور مضحکہ خیز ہے۔
تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان نے حکومت کو خبردار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر عمران خان کو ان کے ذاتی معالج تک بلا رکاوٹ رسائی دی جائے۔
مزید پڑھیں: بشریٰ بی بی سے فیملی ممبران کو ملاقات کرنے کی اجازت مل گئی
اس کے علاوہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ فیملی اور قانونی ٹیم سے ملاقاتیں بحال کی جائیں، جبکہ قیدِ تنہائی کا خاتمہ کیا جائے، اور شفاف و کھلی عدالتی کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ قوم سب دیکھ رہی ہے اور سچ کو وقتی طور پر دبایا جا سکتا ہے، دفن نہیں کیا جا سکتا۔
واضح رہے کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ عمران خان کی بینائی سے متعلق پروپیگنڈا کیا گیا، ان کو جیل میں ہرممکن سہولیات دی جا رہی ہیں۔













