برطانیہ میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 5 برس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ دفتر برائے قومی شماریات کے مطابق 2025 کے اختتام پر ملک میں بے روزگار افراد کی شرح بڑھ کر 5.2 فیصد ہوگئی، جو گزشتہ تقریباً پانچ برسوں میں سب سے زیادہ سطح ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بیرون ملک جانے کے خواہش مند نوجوانوں کے لیے چند اصول
برطانیہ میں اوسط سالانہ اجرت میں اضافے کی رفتار بھی سست ہو کر تقریباً 4 برس کی کم ترین سطح پر آگئی ہے۔ اس صورتحال کا سب سے زیادہ اثر نوجوانوں پر پڑا ہے، جہاں 16 سے 24 برس کی عمر کے افراد میں بے روزگاری کی شرح ایک دہائی سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ دفتر برائے قومی شماریات کے مطابق اس وقت برطانیہ میں 16.1 فیصد نوجوان بے روزگار ہیں۔
اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ کورونا وبا کے بعد پہلی بار ہر دستیاب ملازمت کے مقابلے میں ملازمت کے متلاشی افراد کی تعداد سب سے زیادہ ہو گئی ہے، جبکہ حالیہ مہینوں میں خالی آسامیوں کی تعداد تقریباً مستحکم رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا میں کتنے فیصد ملازمین کو خوراک کے حصول، بچوں کی نگہداشت میں مشکل کا سامنا؟
وزیر برائے محنت و پنشنز، پیٹ میک فیڈن نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو روزگار دلانے کے لیے ابھی مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کی بے روزگاری میں کمی حکومت کی اہم ترجیح ہے، اور اسی مقصد کے لیے لیبر پارٹی حکومت اپرنٹس شپ پروگرامز کو نوجوانوں کے لیے مزید قابلِ رسائی بنا رہی ہے اور 50 ہزار نئی ملازمتیں پیدا کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ایک تہائی سے زائد آجر نئے کارکنوں کے حقوق سے متعلق قوانین کے باعث بھرتیوں میں کمی کر رہے ہیں، جس سے روزگار کی صورتحال مزید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔













