قدیم زمانے میں تاجروں کا اہم پڑاؤ اور قصے کہانیوں کی وجہ سے مشہور پشاور کے تاریخی قصہ خوانی بازار میں کاشغر کیفے کے نام سے ایک ریسٹورنٹ کھلا ہے، جہاں بیٹھ کر وسطی ایشیائی ممالک کی ثقافت دیکھی جا سکتی ہے۔
کاشغر کیفے کے مالک سید کاظمی کا تعلق بھی اسی قصہ خوانی بازار سے ہے اور ان کے آباؤ اجداد کا اسی مقام پر ہنڈی کرافٹ کا کاروبار تھا۔ ان کے باپ دادا کے زمانے میں وسطی ایشیائی تاجر یہاں آتے تھے، اور وہ اپنے بڑوں سے اس حوالے سے قصے سنتے رہے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ پشاور کے قہوہ خانے اس زمانے میں تاجروں کی وجہ سے آباد تھے، اور تاجر یہاں پڑاؤ کے دوران انہی قہوہ خانوں میں بیٹھ کر اپنے اپنے قصے سناتے تھے۔
مزید پڑھیں: کاشغر ایئرپورٹ پر پنجاب پولیس افسران کی لڑائی، آئی جی پنجاب نے نوٹس لے لیا
وقت بدل گیا، پشاور کے تاریخی قہوہ خانے بھی ختم ہونے لگے اور ان کی جگہ ملبوسات، جوتوں اور دیگر سامان کی دکانوں نے لے لی، جبکہ چند ایک قہوہ خانے اپنی اصل حالت میں اب بھی قائم ہیں۔
سید کاظمی کے مطابق انہیں بچپن سے ہی پشاور کی تاریخ میں دلچسپی تھی، اور پشاور میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری اور سیاحوں کی دوبارہ آمد کے بعد انہوں نے قصہ خوانی میں نیا کیفے کھول دیا ہے، جو قصہ خوانی کی قدیم روایت اور وسطی ایشیائی ممالک کی ثقافت کے مطابق بنایا گیا ہے۔ یہاں بیٹھ کر محسوس کیا جا سکتا ہے کہ وسطی ایشیائی ممالک کی ثقافت کیسی ہے۔
مزید پڑھیں: پشاور کے تاریخی قصہ خوانی بازار کی قدیم روایت کو زندہ رکھنے والا قہوہ خانہ
کاشغر کیفے میں کھانے کا ذائقہ بھی الگ ہے، اور یہاں آنے والے اسے قصہ خوانی میں ایک بہترین اضافہ قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق قصہ خوانی میں اس سے پہلے فیملیز یا سیاحوں کے لیے اس طرح کے ریسٹورنٹ موجود نہیں تھے، اور کاشغر کیفے میں آ کر کتابوں میں قصہ خوانی کے بارے میں پڑھے گئے قصے کہانیوں کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔











