ہلیری کلنٹن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ پر جیفری ایپسٹین سے متعلق فائلوں کے معاملے میں ‘پردہ پوشی’ کا الزام عائد کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ تمام دستاویزات مکمل طور پر منظرِ عام پر لائی جائیں۔
برلن میں سالانہ عالمی فورم کے موقع پر برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے سابق امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا، ‘فائلیں جاری کریں، انہیں جان بوجھ کر سست رفتاری سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔’ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو شفافیت کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور اگر کوئی چیز چھپانے کو نہیں تو تمام ریکارڈ بلا تاخیر عوام کے سامنے رکھا جائے۔
یہ بھی پڑھیے: انیل امبانی کے جیفری ایپسٹین سے رابطوں کے انکشاف پر کانگریس نے سوالات اٹھا دیے
کانگریس کی متعلقہ کمیٹی کے روبرو پیشی سے متعلق سوال پر ہلیری کلنٹن نے واضح کیا، ‘جس جس کو طلب کیا جائے، اسے گواہی دینی چاہیے۔’ انہوں نے زور دیا کہ سماعت بند کمرے کے بجائے عوامی سطح پر ہونی چاہیے تاکہ ہر چیز کھل کر سامنے آئے۔ ان کے بقول، ‘ہمیں یکساں سلوک چاہیے۔ ہمارے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں۔ ہم بارہا مکمل فائلوں کے اجرا کا مطالبہ کر چکے ہیں۔’
ہلیری کلنٹن نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ انہیں اور ان کے شوہر کو سیاسی طور پر نشانہ بنا کر اصل معاملات سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ایک ‘چمکتی ہوئی چیز’ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے تاکہ دیگر اہم سوالات پس منظر میں چلے جائیں۔
یہ بھی پڑھیے: ایپسٹین اسکینڈل کی گونج برطانیہ تک، سابق سفیر مینڈلسن سے جواب طلب
وائٹ ہاؤس نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامیہ ہزاروں صفحات جاری کر چکی ہے اور مزید تحقیقات کے لیے تعاون کر رہی ہے، جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کے پاس چھپانے کو کچھ نہیں۔
یاد رہے کہ امریکی محکمہ انصاف حالیہ دنوں میں مرحوم مالیاتی شخصیت جیفری ایپسٹین سے متعلق لاکھوں صفحات جاری کر چکا ہے، تاہم مزید ریکارڈ کے اجرا پر سیاسی بحث جاری ہے۔













