سپریم کورٹ نے صحافی سہراب برکت کی بعد از گرفتاری ضمانت منظور کر لی ہے۔
عدالتِ عظمیٰ نے 2 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کی۔ درخواستِ ضمانت کی سماعت جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے کی۔
سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ سہراب برکت کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے اور وہ اس وقت جوڈیشل ریمانڈ پر کوٹ لکھ پت جیل میں قید ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: لاہور: صحافی زین ملک بسنت مناتے ہوئے چھت سے گر کر جاں بحق
سماعت کے دوران جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے، ‘ہم نے 302 میں بھی ضمانتیں دی ہیں، اس میں سزائے موت تو نہیں ہے؟’ انہوں نے استفسار کیا کہ اس وقت پاکستان میں کتنے یوٹیوب چینلز کام کر رہے ہیں۔
جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا، ‘سہراب برکت نے تو انٹرویو کے دوران کچھ نہیں بولا، جس نے بولا وہ ہمارے سامنے نہیں ہے۔’ انہوں نے مزید ریمارکس دیے، ‘پیکا ایکٹ کے تحت صرف ایک ادارے کے لیے کام کیا جا رہا ہے، ججز کے خلاف جو بولا جاتا رہا اس پر تو کچھ نہیں کیا گیا۔’
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے، ‘صنم جاوید سب کو مروا کر چھوڑے گی۔’ جبکہ جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا، ‘2018 میں آر ٹی ایس نہ بیٹھتا تو آج ہمیں ففتھ جنریشن کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔’
عدالت نے واضح کیا، ‘ہم سہراب برکت کو بری تو نہیں کر رہے، آپ سزا دلوا دینا۔’ بینچ نے ٹرائل کی موجودہ اسٹیج سے متعلق بھی استفسار کیا۔
وکیلِ صفائی بیرسٹر سعد رسول نے مؤقف اختیار کیا کہ مرکزی ملزم صنم جاوید ہیں لیکن انہیں شاملِ تفتیش نہیں کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ چالان جمع کروا دیا گیا ہے مگر انہیں اس تک رسائی نہیں دی گئی، نہ فردِ جرم عائد ہوئی اور نہ باقاعدہ ٹرائل شروع ہوا۔
یہ بھی پڑھیے: بھارت: صحافی کو ایڈانی گروپ کے خلاف سوشل میڈیا پوسٹس پر ایک سال قید اور جرمانے کی سزا
ایف آئی اے کے تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ صنم جاوید کی تفتیش مکمل کر کے ضمنی چالان جمع کروا دیا گیا ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ نومبر 2025 سے ملزمہ گرفتار اور جوڈیشل ہو چکی ہیں تو مزید تفتیش کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ مقدمہ بدنیتی پر مبنی ہے اور متعلقہ دفعات میں مزید جسمانی ریمانڈ کی ضرورت نہیں۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے رہائی کا حکم جاری کیا۔
واضح رہے کہ صحافی سہراب برکت پیکا ایکٹ کے تحت درج مقدمے میں گرفتار کیے گئے تھے اور انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر کوٹ لکھ پت جیل منتقل کیا گیا تھا۔













