رمضان المبارک کی آمد پر ہر طرف اس مقدس مہینے کی تیاریاں عروج پر ہیں، بازاروں میں غذائی اشیا کی خریداری کا رش بڑھ چکا ہے۔
اسی دوران موسم بھی کروٹ بدلتا دکھائی دے رہا ہے، جس نے روزہ داروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔
گزشتہ چند دنوں میں دن کے اوقات میں گرمی کی شدت میں واضح اضافہ دیکھا گیا ہے، دھوپ قدرے تیز محسوس ہونے لگی ہے، تاہم صبح سویرے اور رات کے وقت موسم اب بھی خوشگوار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آسٹریلیا میں رمضان 2026 کا آغاز 19 فروری سے ہوگا، علما کی اتحاد و یکجہتی کی اپیل
رمضان کی آمد کے ساتھ ہی عوام کی بڑی تعداد یہ جاننے کی خواہش رکھتی ہے کہ پورے مہینے میں موسم کا حال کیسا رہے گا، گرمی میں مزید اضافہ ہوگا یا خوشگوار کیفیت برقرار رہے گی، اور روزے کے دوران کن احتیاطی تدابیر کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
بدلتے موسم کے باعث یہ سوال خاص اہمیت اختیار کر گیا ہے تاکہ لوگ اپنی روزمرہ مصروفیات، سفر اور عبادات کو بہتر انداز میں ترتیب دے سکیں۔
ڈائریکٹر جنرل پاکستان میٹرو لوجیکل ڈیپارٹمنٹ مہر صاحبزاد خان کے مطابق رواں سال رمضان کے ابتدائی دنوں میں موسم نسبتاً معتدل اور خشک رہے گا، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ درجۂ حرارت میں اضافہ متوقع ہے۔
مزید پڑھیں: عمان میں رمضان 2026 کا آغاز 19 فروری سے ہوگا، رویتِ ہلال کمیٹی کا اعلان
ماہر موسمیات کے مطابق اسلام آباد میں رمضان کے آغاز پر موسم خوشگوار رہنے کی توقع ہے، ابتدائی روزوں میں شہریوں کو زیادہ گرمی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
’دن کے وقت درجہ حرارت تقریباً 22 سے 26 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہ سکتا ہے جبکہ سحری اور رات کے اوقات میں ہلکی ٹھنڈک محسوس ہوگی۔‘
رمضان کے دوسرے عشرے میں اسلام آباد سمیت بالائی پنجاب میں درجہ حرارت بتدریج بڑھنے کا امکان ہے اور دن کے وقت یہ 28 سے 32 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: آسٹریلیا میں رمضان 2026 کا آغاز 19 فروری سے ہوگا، علما کی اتحاد و یکجہتی کی اپیل
’دھوپ کی شدت دوپہر کے اوقات میں زیادہ محسوس ہوگی، جبکہ بارش کے امکانات کم ہیں، تاہم کہیں کہیں ہلکے بادل یا مختصر بارش خارج از امکان نہیں۔‘
محکمہ موسمیات کے سربراہ مہر صاحبزاد خان کے مطابق ملک کے دیگر حصوں خصوصاً سندھ اور جنوبی پنجاب میں گرمی نسبتاً زیادہ رہنے لہ توقع ہے، جہاں نمی اور حبس کے باعث عوام کو زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوگی۔
’اس سال رمضان میں موسم زیادہ تر خشک رہے گا اور آخری عشرے میں گرمی کی شدت مزید بڑھ سکتی ہے۔‘














