اقوام متحدہ کے ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایپسٹین فائلز میں ایسے انکشافات سامنے آئے ہیں جو انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آسکتے ہیں۔
مرحوم جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق فائلیں محض عام عدالتی ریکارڈ یا ذاتی ڈائریاں نہیں بلکہ ان میں موجود لاکھوں دستاویزات ایک ایسے عالمی مجرمانہ نیٹ ورک کی نشاندہی کرتی ہیں جو منظم انداز میں سنگین جرائم میں ملوث رہا۔
یہ بھی پڑھیں:مریم نواز کا مری میں رین واٹر ہارویسٹنگ منصوبے کے پہلے مرحلے کی تکمیل پر اظہار اطمینان
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے مقرر کردہ آزاد ماہرین کے پینل کے مطابق امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی دستاویزات میں بیان کردہ جرائم برتری کے نظریات، نسل پرستی، بدعنوانی اور شدید عورت دشمن سوچ کے پس منظر میں کیے گئے۔
Independent human rights experts:
"Any suggestion that it is time to move on from the #EpsteinFiles is unacceptable. It is imperative governments act decisively to hold perpetrators accountable. No one is too wealthy or too powerful to be above the law."https://t.co/Q4tDpxqvaj pic.twitter.com/NMd8xSmfBh
— United Nations Geneva (@UNGeneva) February 16, 2026
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان جرائم سے خواتین اور بچیوں کو محض ایک شے سمجھنے اور انہیں غیر انسانی سطح تک گرانے کی عکاسی ہوتی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ان مظالم کا دائرہ، نوعیت، منظم انداز اور سرحدوں سے ماورا پھیلاؤ اس حد تک سنگین ہے کہ ان میں سے متعدد کو قانونی طور پر انسانیت کے خلاف جرائم قرار دیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’ایپسٹین فائلز ’خالص جہنم‘ ہیں، مغربی ادارے بچوں کی اسمگلنگ چھپاتے رہے، ماسکو
ماہرین نے مطالبہ کیا کہ ان الزامات کی آزاد، مکمل اور غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں اور یہ بھی جانچا جائے کہ اتنے طویل عرصے تک ایسے جرائم کا ہونا کیسے ممکن رہا۔
امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے ان خدشات پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔
Peace With No Notion: Epstein files: ‘No one is too wealthy or too powerful to be above the law’; rights experts demand accountability https://t.co/u33D8hgWDd
— Foundation For A Humanitarian Based Economy (@fhbeps) February 17, 2026
دستاویزات میں اب تک ایک ہزار 200 سے زائد متاثرین کی نشاندہی کی جاچکی ہے۔ ماہرین نے حساس معلومات کے افشا ہونے، ناقص ترمیم اور ضابطوں پر عملدرآمد میں ناکامی پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایپسٹین فائلز میں مودی کا نام سامنے آنے پر کانگریس کی تنقید، حکومت کی سخت تردید
ماہرین کا کہنا ہے کہ مکمل معلومات سامنے نہ لانے اور تحقیقات کا دائرہ وسیع نہ کرنے کی وجہ سے بہت سے متاثرین خود کو دوبارہ ذہنی اذیت میں مبتلا محسوس کر رہے ہیں۔
یہ دستاویزات سیاست، مالیات، تعلیمی اداروں اور کاروباری حلقوں کی کئی نمایاں شخصیات سے ایپسٹین کے روابط بھی ظاہر کرتی ہیں۔ جیفری ایپسٹین کو 2008 میں کم عمر لڑکی سے متعلق جرم کا اعتراف کرنے کے بعد سزا ہوئی تھی، جبکہ بعد ازاں اسے بچوں کی اسمگلنگ کے الزامات پر دوبارہ گرفتار کیا گیا۔
ایپسٹین 2019 میں جیل میں مردہ پائے، ان کی موت کو خودکشی قرار دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایلون مسک اور جیفری ایپسٹین کے درمیان دوستانہ رابطوں کے شواہد منظرعام پر آگئے
ماہرین کے مطابق ہر نئے دن سامنے آنے والی فائلیں اور ان میں موجود مواد دنیا بھر میں نئے صدمے اور خوف کو جنم دے رہا ہے، جبکہ یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ فائلیں اس انداز میں کیوں منظرعام پر لائی جا رہی ہیں اور ماضی میں انہیں کیوں محفوظ یا ختم نہیں کیا گیا۔













