فرانسیسی خبر رساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے الزام عائد کیا کہ دہلی اور کابل کے ساتھ بعض دہشتگرد تنظیمیں بھی پاکستان میں ہونے والی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کالعدم ٹی ٹی پی، داعش اور دیگر شدت پسند گروہ افغانستان کی سرزمین پر موجود ہیں اور پاکستان کے خلاف حملے وہاں کی حکومت کی رضامندی یا سرپرستی کے بغیر ممکن نہیں۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے واضح کیا ہے کہ پاکستان افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف فضائی کارروائی کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرےگا۔
مزید پڑھیں: افغانستان دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہیں، کالعدم ٹی ٹی پی کن علاقوں میں موجود ہے؟
خواجہ آصف نے بھارت پر الزام عائد کیا کہ وہ پاکستان کے خلاف پراکسی وار چلا رہا ہے۔ ’نئی دہلی، کابل اور شدت پسند تنظیمیں ایک ہی پیج پر ہیں۔‘
انہوں نے کہاکہ مئی 2025 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان مسلح تصادم کے بعد دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ رابطہ نہیں ہوا۔
وزیر دفاع نے مزید کہاکہ کچھ دوست ممالک پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ثالثی کی کوششیں کررہے تھے، لیکن ان کوششوں کے کوئی ٹھوس نتائج برآمد نہیں ہوئے۔
وزیرِ دفاع نے کہاکہ بھارت کے ساتھ کشیدگی کے تناظر میں جنگ کے خدشات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے اور صورتحال اب بھی حساس ہے۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس مئی میں ہونے والی 4 روزہ جھڑپوں کے دوران بھارت کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی متعدد مواقع پر طیاروں کی تعداد کا حوالہ دے چکے ہیں۔
انہوں نے مزید کہاکہ اس تنازع کے باعث عالمی سطح پر بھارت کو سبکی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ مقابلہ ایسے ملک سے تھا جو رقبے اور عسکری حجم دونوں اعتبار سے اس سے چھوٹا ہے۔
وزیر دفاع کے مطابق پاکستان فضائیہ نے اپنی حدود میں دراندازی کی ہر کوشش کو ناکام بنایا۔
انہوں نے یہ بھی کہاکہ دہلی کے کابل کے ساتھ قریبی روابط ہیں جبکہ موجودہ وقت میں پاکستان اور بھارت کے درمیان براہ راست یا بالواسطہ کسی قسم کا رابطہ موجود نہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ پاکستان کا اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، ہم آزاد فلسطینی ریاست کا قیام چاہتے ہیں۔
مزید پڑھیں: افغانستان، دہشتگردی اور پاکستان کی سفارتی حکمت عملی
واضح رہے کہ کچھ روز قبل وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا تھا کہ ہمیں جلد یا بدیر افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں کرنا ہوں گی۔












