جنگ بندی کے 4 ماہ بعد حماس غزہ میں دوبارہ اپنا کنٹرول مستحکم کرتی دکھائی دے رہی ہے، حالانکہ اسرائیل کے ساتھ طویل جنگ میں اسے بھاری جانی و عسکری نقصان اٹھانا پڑا تھا۔
مزید پڑھیں: غزہ پر اسرائیلی حملے: 37 فلسطینی شہید، حماس نے شدید نتائج کی وارننگ دے دی
مقامی ذرائع کے مطابق حماس کی پولیس اور سیکیورٹی اہلکار دوبارہ سڑکوں پر نظر آ رہے ہیں، سرکاری فیسوں اور ٹیکسوں کی وصولی کا نظام بحال کیا جا رہا ہے اور عدالتی ڈھانچے پر بھی کنٹرول مضبوط کیا جا رہا ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ درآمدی اشیا پر ٹیکس دوبارہ سختی سے وصول کیے جا رہے ہیں اور ادائیگی سے انکار پر دباؤ ڈالا جاتا ہے۔
گزشتہ اکتوبر میں امریکی کوششوں سے ہونے والی جنگ بندی کے بعد یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب اسرائیل اور حماس کے درمیان شدید لڑائی میں غزہ کا بڑا حصہ تباہ ہو گیا اور حماس کی عسکری قیادت کو بھاری نقصان پہنچا۔ اسرائیلی فوج کا مؤقف ہے کہ حماس کمزور ضرور ہوئی ہے مگر اب دوبارہ خود کو منظم کر رہی ہے، اس لیے اس کا مکمل غیر مسلح ہونا ضروری ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کے دوسرے مرحلے میں حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا گیا ہے، جبکہ واشنگٹن میں قائم نئے ’بورڈ آف پیس‘ کا پہلا اجلاس بھی متوقع ہے۔ تاہم حماس کا کہنا ہے کہ وہ اقتدار ایک ٹیکنوکریٹک کونسل کے حوالے کرنے پر آمادہ ہے، البتہ ہتھیاروں کے معاملے پر مذاکرات جاری ہیں۔
مزید پڑھیں:ہتھیار ڈالنے پر حماس کو معافی مل سکتی ہے، امریکا کے پاس مربوط منصوبہ موجود ہے،رپورٹ
دوسری جانب رفح کراسنگ کی محدود بحالی کے بعد بعض مریضوں کو بیرونِ غزہ علاج کے لیے بھیجا جا رہا ہے، مگر اطلاعات ہیں کہ حماس کے اہلکار اس عمل کی نگرانی میں بھی شامل ہیں، جو اس کے اثر و رسوخ کے برقرار رہنے کی نشاندہی کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق جنگ کے بعد غزہ کی تباہ حال معیشت، بے گھر آبادی اور امداد پر انحصار کی صورتحال میں اصل کشمکش اب صرف زمین کی نہیں بلکہ عوامی حمایت اور سیاسی کنٹرول کی ہے۔














