خطے میں منعقد ہونے والی 2 بڑی مصنوعی ذہانت کانفرنسوں کا موازنہ اس وقت زیر بحث ہے جب پاکستان میں منعقدہ ’پاک انڈس اے آئی ویک‘ کو منظم اور ہموار انتظامات پر سراہا جا رہا ہے، جبکہ دہلی میں ہونے والی انڈیااے آئی امپیکٹ سمٹ (India AI Impact Summit) کو بدانتظامی اور تنازعات کا سامنا کرنا پڑا۔
مزید پڑھیں: چینی روبوٹ کو اپنی ایجاد ظاہر کرنے پر بھارتی کمپنی کی عالمی سطح پر سُبکی
بھارت میں سمٹ کے آغاز پر طلبا کو رجسٹریشن کے باوجود داخلے سے روکے جانے، صبح 7 بجے سے قطاروں میں لگنے، گیٹس اچانک بند کیے جانے اور انٹرنیٹ سروس متاثر ہونے کی شکایات سامنے آئیں۔ سوشل میڈیا پر بھی انتظامی مسائل موضوع بحث بنے اور دوسرے روز بھارتی آئی ٹی وزیر اشونی ویشنو کو عوامی معذرت کرنا پڑی۔
India’s AI Summit or Modi PR Show
Chinese Robot Passed Off as Indian Innovation pic.twitter.com/vT0KOvJr4c— Congress (@INCIndia) February 18, 2026
اسی دوران ایک نیا تنازع اس وقت کھڑا ہوا جب گلگوٹیاس یونیورسٹی (Galgotias University) کی پروفیسر نہا سنگھ نے چینی کمپنی Unitree Robotics کے تیار کردہ “Go2” روبو ڈاگ کو اپنی یونیورسٹی کی ایجاد قرار دیا۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے روبوٹ کی اصل شناخت کرلی، جس پر یونیورسٹی کو وضاحت دینا پڑی اور معاملہ سمٹ کی ساکھ پر اثر انداز ہوا۔
— Galgotias University (@GalgotiasGU) February 18, 2026
دوسری جانب پاکستان میں منعقدہ اے آئی ایونٹ کے دوران نہ کسی انخلا کی خبر سامنے آئی، نہ طلبا کے پھنسنے کی شکایات، نہ وائی فائی کی ناکامی اور نہ ہی عوامی معذرت کی ضرورت پیش آئی۔ سیشنز بروقت منعقد ہوئے، مندوبین کو باقاعدہ داخلہ ملا اور پالیسی مباحث ہی سرخیوں میں رہے۔
مزید پڑھیں: چینی روبوٹ کو اپنی ایجاد ظاہر کرنے پر بھارتی یونیورسٹی کو اے آئی امپیکٹ سمٹ سے باہر کر دیا گیا

تجزیہ کاروں کے مطابق جہاں بھارت کو لاجسٹکس اور تنازعات کا سامنا رہا، وہیں پاکستان نے پیچیدہ انتظامات کو مؤثر انداز میں سنبھال کر آپریشنل صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی عالمی ٹیکنالوجی ایونٹ میں انتظامی شفافیت اور پیشہ ورانہ نظم و نسق ہی اصل کامیابی کا پیمانہ ہوتے ہیں۔













