ترجمان دفتر خارجہ طاہرحسین اندرابی نے صحافیوں کو ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان نے باجوڑ پر حملے کے حوالے سے افغان حکومت کو ڈی مارش کیا ہے۔
پاکستان کا صبر لامحدود نہیں، اور ہم اپنے لوگوں کو مرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے، اقوام متحدہ اور عالمی قوانین کے تحت افغانستان کو جواب دینے کا حق رکھتے ہیں۔
مزید پڑھیں: افغان سرزمین سے دراندازی بند کی جائے، کشیدگی نہیں چاہتے، ترجمان دفترِ خارجہ
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں دہشتگردی اور اس کے افغان تانے بانے جس کی تصدیق اقوام متحدہ رپورٹ میں کی گئی ہے۔ اقوام متحدہ کی سطح پر ہم بات چیت بھی کرتے رہتے ہیں۔ سینکشنز کمیٹی میں بات چیت چلتی رہتی ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اس وقت غزہ بورڈ آف پیس میں شرکت کے لئے نیویارک میں ہیں۔ غزہ پیس بورڈ میں شمولیت سے قبل پاکستان نے بہت احتیاط سے ساری چیزوں کو دیکھا، اسرائیل کی شمولیت ہمارا میٹر آف کنسرن نہیں، ہم غزہ میں امن اور خوشحالی کے لیے کام کریں گے۔ مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضے کے بارے میں بھی بورڈ آف پیس اجلاس میں بات ہوگی۔
طاہرحسین اندرابی نے کہا کہ صدر ٹرمپ اور وزیراعظم کی ملاقات ہوگی یا نہیں، اس بارے میں معلوم نہیں۔ ایران امریکا مذاکرات کے بارے میں بات کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ امن اور ڈپلومیسی کی حمایت کی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 3 پاکستانی فوجیوں کی افغان قید سے رہائی اور سعودی عرب کے حوالے کیے جانے کے معاملے پر ہمیں ابھی تک کنفرمیشن کا انتظار ہے۔ پاکستان اپنے دوست ممالک کی جانب سے افغان طالبان رجیم کو دہشتگردی کے خلاف یاددہانی کرائے جانے کے عمل کو مثبت طریقے سے دیکھتا ہے، لیکن سعودی حکومت باقاعدہ ثالثی نہیں کروا رہی۔
مزید پڑھیں:افغانستان، دہشتگردی اور پاکستان کی سفارتی حکمت عملی
ترجمان کا کہنا تھا کہ عرب اسلامی ممالک افغانستان کے ساتھ جو بات چیت کرتے ہیں ہم اس کی قدر کرتے ہیں خاص طور پر جب وہ افغان طالبان رجیم کو کہتے ہیں کہ افغان سرزمین دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ سارک کو بھارت نے غیر مؤثر بنایا ہوا ہے۔ بنگلہ دیش کی نئی حکومت نے پیش کش کی ہے کہ وہ سارک کے حوالے سے کام کریں گے۔ بھارت کی موجودہ حکومت کی وجہ سے بھارت دہشتگردی کا مرکز بن گیا ہے۔ بھارت سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کے نتائج ہوں گے جو اسے فیس کرنا پڑیں گے۔














