یہ کہانی صرف ایک لڑکی کی نہیں، بلکہ شمالی وزیرستان کی اس مٹی کی ہے جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ ’ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہےساقی‘۔ یہ داستان ہے ’آئینہ عمر‘ کی، جس نے روایتوں کے سنگلاخ پہاڑوں کے بیچ اپنے خوابوں کی ہریالی ڈھونڈ نکالی۔
سنگلاخ چٹانوں میں ابھرتا ہوا ستارہ ’آئینہ‘ کی ہمت اور جنون کی داستان ہے۔ شمالی وزیرستان کا نام ذہن میں آتے ہی اکثر پسماندگی، کٹھن راستے اور محرومیوں کا نقشہ ابھرتا ہے۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں بنیادی سہولیات کا حصول بھی کسی معجزے سے کم نہیں۔ لیکن اسی بنجر پن میں ایک کونپل پھوٹی ہے جس نے پورے ملک کی توجہ اپنی جانب مبذول کرالی ہے۔
آئینہ عمر ایک یتیم اور غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والی لڑکی ہے، جس کے ہاتھوں میں بلّا اور گیند کسی ہتھیار سے زیادہ طاقتور ثابت ہوئے۔
حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو نے طوفان برپا کر دیا، جس میں ایک کمسن لڑکی کو کمال مہارت کے ساتھ بیٹنگ اور باؤلنگ کرتے دیکھا گیا۔ اس کے اسٹائل میں وہی جارحیت تھی جو شاہد آفریدی کے چھکوں میں ہوتی ہے اور وہی تیزی جو کسی منجھے ہوئے باؤلر کا خاصہ ہوتی ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے آئینہ کی یہ ویڈیو وزیرستان کی تنگ گلیوں سے نکل کر پورے ملک کے موبائل فونز تک پہنچ گئی۔
عوام کی جانب سے ملنے والی پذیرائی نے جب پشاور زلمی کے مالک جاوید آفریدی کے کانوں تک دستک دی تو انہوں نے دیر نہیں کی اور آئینہ کو ویمن زلمی کا حصہ بنانے کا اعلان کر دیا۔ یہ فیصلہ نہ صرف آئینہ کی زندگی بدل گیا بلکہ قبائلی علاقوں کی ہزاروں لڑکیوں کے لیے امید کی ایک نئی کھڑکی کھول دی۔
آئینہ عمر اس کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں ’جب میں نے یہ سنا کہ مجھے ویمن زلمی میں شامل کر لیا گیا ہے، تو میری خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔ میرا ہمیشہ سے یہی خواب رہا ہے کہ میں کھیل کے میدان میں اپنے پسماندہ علاقے کا نام روشن کروں اور دنیا کو بتاؤں کہ وزیرستان کی بیٹیاں بھی کسی سے کم نہیں‘۔
آئینہ کا ماننا ہے کہ قبائلی علاقوں میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں، بس مواقع میسر نہیں ہیں۔ وہ مطالبہ کرتی ہیں کہ ان علاقوں میں باقاعدہ کرکٹ لیگز کا انعقاد ہونا چاہیے تاکہ دیواروں کے پیچھے چھپے ہوئے ہیرے سامنے آ سکیں۔
آئینہ محض اپنی ذات تک محدود نہیں رہنا چاہتیں۔ وہ کہتی ہیں کہ خدا نے جو ٹیلنٹ انہیں دیا ہے، اسے مزید بہتر بنانے کے لیے سخت ٹریننگ کی ضرورت ہے۔ مجھے اب ایک پیشہ ورانہ ماحول چاہیے تاکہ میں اپنی خامیاں دور کر سکوں۔
ان کا مستقبل کا منصوبہ کسی بڑے سماجی کارکن سے کم نہیں۔ وہ چاہتی ہیں کہ مستقبل میں اپنے علاقے کی لڑکیوں کے لیے ایک ایسی اسپورٹس اکیڈمی کھولیں جہاں انہیں وہ سب کچھ میسر ہو جو انہیں میسر نہیں تھا۔ وہ چاہتی ہیں کہ وزیرستان کی اگلی نسل کی لڑکیوں کو میدان تک پہنچنے کے لیے کسی ’وائرل ویڈیو‘ کا انتظار نہ کرنا پڑے۔
آئینہ کی سرپرستی ان کے چچا منظور خان رہے ہیں، وہ بتاتے ہیں کہ آئینہ عمر ایک یتیم بچی ہے جس نے بہت کٹھن وقت دیکھا ہے۔ جاوید آفریدی کے اعلان نے ان کے گھر میں عید کا سا سماں پیدا کر دیا۔ لیکن ساتھ ہی وہ ایک اہم نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ہمیں خوشی ہے کہ وہ کرکٹ کھیل رہی ہے، لیکن ہم چاہتے ہیں کہ وہ کرکٹ کے ساتھ ساتھ اپنی تعلیم بھی مکمل کرے۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ ایک پڑھی لکھی کھلاڑی بنے‘۔
ممبر صوبائی اسمبلی اقبال وزیر نے کہا کہ ننھی اسٹار آئینہ عمر کو کرکٹ کھیلتے دیکھ کر دلی خوشی ہوئی۔ اتنی کم عمر میں ایسا جذبہ اور ہمت واقعی قابل فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری طرف سے بھرپور سپورٹ اور حوصلہ افزائی ہمیشہ اس کے ساتھ ہے۔ ہماری بیٹیاں ہمارا فخر ہیں۔
یہ سوچ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اب قبائلی علاقوں میں بھی شعور کی لہر دوڑ رہی ہے اور لوگ کھیل کو تعلیم کا حریف نہیں بلکہ اس کا مددگار سمجھتے ہیں۔
پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، جن میں بے پناہ ٹیلنٹ چھپا ہوا ہے۔ آئینہ کی کہانی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر ان نوجوانوں کو تھوڑی سی بھی توجہ ملے تو وہ آسمان چھو سکتے ہیں۔
حکومتِ وقت اور اسپورٹس بورڈز کو چاہیے کہ پسماندہ علاقوں میں اسپورٹس کمپلیکس تعمیر کیے جائیں اور مقامی سطح پر ٹیلنٹ ہنٹ پروگرامز شروع کیے جائیں۔
آئینہ کی کامیابی صرف ایک کھلاڑی کی جیت نہیں بلکہ اس سوچ کی جیت ہے جو کہتی ہے کہ حالات چاہے کتنے ہی نامساعد کیوں نہ ہوں، محنت اور سچی تڑپ منزل کا راستہ ڈھونڈ ہی لیتی ہے۔ آج آئینہ وزیرستان کی چٹانوں سے اٹھی ہے، کل وہ انٹرنیشنل گراؤنڈز پر پاکستان کا پرچم تھامے نظر آئے گی۔













