رمضان المبارک کا مہینہ محض فاقہ کشی یا ایک مذہبی فریضہ نہیں ہے، بلکہ یہ ٹوٹے ہوئے دلوں کی مرہم کاری اور اللہ سے دوبارہ جڑنے کا ایک خوبصورت ذریعہ ہے۔ جوں ہی رمضان کا چاند نظر آتا ہے، انسانی دل میں ایک عجیب سی امید انگڑائی لینے لگتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے کسی نے ہمیں اپنی پناہ میں لے لیا ہو، ایک ایسا محفوظ راستہ جہاں ہم اپنے گناہوں کا بوجھ اتار کر سکون پا سکتے ہیں۔
آج کے اس دور میں، جب ہر طرف مقابلہ ہے، ذمہ داریوں کا بوجھ ہے، اور بے پناہ کوششوں کے باوجود بعض اوقات نتائج حاصل نہیں ہوتے، تو انسان مایوسی کا شکار ہونے لگتا ہے۔ ایسے میں رمضان کا آنا اندھیروں میں ایک روشن چراغ کی مانند ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب آپ کا چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی بے پناہ اجر کا باعث بنتا ہے، ہر نیا دن ایک نئی شروعات اور ‘ری سیٹ بٹن’ کی طرح ہوتا ہے، اور ٹوٹے ہوئے لوگوں کو دوبارہ کھڑے ہونے کا حوصلہ ملتا ہے۔
رمضان دراصل ‘ہیلنگ’ (Healing) کا مہینہ ہے۔ یہ ہمیں احساس دلاتا ہے کہ ہم اکیلے نہیں ہیں، بلکہ ہم اللہ کی حفاظت اور اس کی محبت کے سائے میں ہیں۔ یہ مہینہ ہمیں سکھاتا ہے کہ معجزے آج بھی ہو سکتے ہیں، بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے رب کی طرف رجوع کریں۔
قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، ’اے میرے بندو، جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہونا‘۔ یہ آیت ہمیں پکارتی ہے کہ چاہے سال بھر کتنی ہی غلطیاں کیوں نہ ہوئی ہوں، چاہے دل کتنا ہی بوجھل کیوں نہ ہو، اللہ کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں۔ یہ مہینہ ایک پکار ہے کہ ’اب واپس آ جاؤ‘۔














