پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری رانا مجاہد نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے، جسے منظور بھی کر لیا گیا ہے۔
یہ پیشرفت فیڈریشن میں انتظامی معاملات پر اٹھنے والے سنگین سوالات اور حکومتی سطح پر نوٹس لیے جانے کے بعد سامنے آئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کپتان عماد بٹ پر پابندی لگانے کے بعد پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر طارق بگٹی مستعفی
ذرائع کے مطابق فیڈریشن میں بدانتظامی کی رپورٹس منظر عام پر آنے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے معاملے کا نوٹس لیا تھا، جس کے بعد صدر فیڈریشن طارق بگٹی بھی اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے۔
طارق بگٹی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے اپنا استعفیٰ وزیراعظم کو ارسال کر دیا ہے اور درخواست کی ہے کہ حقائق جاننے کے لیے تحقیقات کی جائیں۔
یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا تھا جب قومی ہاکی ٹیم کو آسٹریلیا کے دورے کے دوران غیر معیاری رہائش فراہم کیے جانے کا انکشاف ہوا، حالانکہ حکومت کی جانب سے فیڈریشن کو 25 کروڑ روپے کی گرانٹ دی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ناروا سلوک کی انتہا، آسٹریلیا سے واپسی پر پاکستان ہاکی ٹیم کو لینے کوئی بھی ایئرپورٹ نہ پہنچا
کھلاڑیوں کو فائیو اسٹار ہوٹل کے بجائے ایک عام گھر میں ٹھہرایا گیا، جس پر شدید تنقید سامنے آئی۔
دوسری جانب طارق بگٹی نے بدانتظامی کی ذمہ داری پاکستان اسپورٹس بورڈ پر عائد کرتے ہوئے قومی کھلاڑی عماد شکیل بٹ پر ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل ہاکی کھیلنے پر 2 سال کی پابندی کا اعلان بھی کیا تھا۔
رانا مجاہد کے استعفے کو فیڈریشن میں جاری بحران کی ایک اہم کڑی قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ حکومتی سطح پر مزید اقدامات کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر طارق بگٹی مستعفی
دوسری جانب پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر میر طارق حسین مسوری بگٹی نے بھی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے، انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھ کر اپنا استعفیٰ پیش کیا۔
بگٹی نے قومی ٹیم کی مینز پرو لیگ 2025-26 کے دوران ہوبارٹ، آسٹریلیا میں پیش آنے والی بدانتظامیوں کا مکمل ذمہ دار پاکستان اسپورٹس بورڈ کو قرار دیا اور فیڈریشن کو پاکستان کرکٹ بورڈ کی طرح خودمختار بنانے کے لیے اصلاحات کا مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: 400 روپے ڈیلی الاؤنس، ہماری توہین ہے، پاکستان ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں کا احتجاج
میڈیا سے گفتگو میں بگٹی نے کہا کہ ہاکی کو اپنا بورڈ چاہیے جو اپنی آمدنی پیدا کرے۔ ہم پاکستان اسپورٹس بورڈ پر ہر چیز کے لیے منحصر نہیں رہ سکتے۔ فیڈریشن کو خود مالی وسائل جمع کرنے اور پیشہ ورانہ انداز میں امور چلانے کا اختیار ہونا چاہیے۔














