عماد وسیم معروف پاکستانی کرکٹر اور اسپن باؤلنگ آل راونڈر ہیں۔ وہ پاکستان کی جانب سے کئی اہم ٹورنامنٹس بشمول ورلڈ کپ کھیل چکے ہیں، دنیا بھر کی ٹی ٹوئنٹی لیگز کھیلتے ہیں۔ پی ایس ایل میں وہ آج کل اسلام آباد یونائٹیڈ کی ٹیم کا حصہ ہیں۔
پچھلے چند دنوں سے عماد وسیم کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا ہے۔ بہت سی دھواں دھار پوسٹیں ان کے خلاف کی جا رہی ہیں۔ سخت ذاتی تنقید، گھٹیا زہریلے طنز، طعنے اور باقاعدہ لعنتوں والی پوسٹیں۔ حیرت سے پہلے دیکھتا رہا کہ یہ ہو کیا رہا ہے، آخر اس غریب نے کیا قصور کیا؟
بعد میں پتا چلا کہ عماد وسیم نے دوسری شادی کر لی ہے، اتفاق سے وہ دوسری اہلیہ نائلہ راجہ بھی سوشل میڈیا انفلونسر ہیں۔ اب کئی اطراف سے تیروں کی بارش عماد وسیم اور ان کی نئی نویلی دلہن پر ہو رہی ہے۔ ایک پوسٹ دیکھی جس میں یہ لکھا تھا کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے انڈیا سے ہارنے پر لعن طعن کا نشانہ وہ کرکٹر بنے تھے، عماد وسیم نے دوسری شادی کا اعلان کر کے خود کو اس کا نشانہ بنا لیا۔ پوسٹ کرنے والی بھی ایک خاتون تھیں اور اس پر تائیدی کمنٹس کرنے والی اکثریت بھی خواتین کی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟
دیکھیں جناب، ہمیں ہرگز ہرگز فیمنسٹ ہونے کا کوئی دعویٰ نہیں ،اس کے باوجود بہرحال ہم خواتین کی عزت اور احترام کی شدت سے قائل ہیں۔ خود ایک بیٹی کے والد ہیں جو خیر سے یونیورسٹی کی طالبہ ہے۔ ہماری بیٹی فخریہ کہا کرتی ہیں کہ میں بابا کی بیٹی ہوں اور وہ میری کوئی بات نہیں ٹالتے۔ میرے 3 بیٹوں کو یہ شکوہ رہا ہے کہ بہن کے معاملے پر آپ ہمیشہ اس کی سائیڈ لیتے ہیں۔ میں نے اس سے کبھی انکار نہیں کیا اور اعلان کر رکھا ہے کہ ہر معاملے پر میرا ووٹ اپنی بیٹی کے ساتھ ہے۔
کہنے کا مقصد یہ ہے کہ خود ایک بچی کا والد ہوں، بچیوں کے والدین کو اپنی بچیوں کے مستقبل کی بھی فکر ہوتی ہے، وہ ان کے اچھے نصیب چاہتے ہیں اور اسی لیے ان کی دعا ہر شادی شدہ جوڑے کے لیے یہی ہوتی ہے کہ ان کا گھر بنا رہے، جُڑا رہے، وہ خوش رہیں۔
اس کے باوجود ایک اصولی اور واضح بات یہ ہے کہ مجھے، آپ کو ، کسی اور کو کوئی حق نہیں کہ وہ کسی کے ذاتی معاملے میں یوں دھڑلے سے اپنی رائے دے ، طنزیہ پوسٹیں کرے اور خواہ مخواہ کا زہراگلے۔ دراصل ہمارے سامنے کبھی پوری تصویر نہیں ہوتی۔ ہم نے دونوں طرف کا مؤقف تفصیل سے نہیں سنا ہوتا۔ بہت کچھ ایسا ہوتا ہے جو ان سنا ، ان کہا ہو، جسے بیان نہیں کیا جا سکتا، صرف محسوس کرسکتے ہیں۔
ٹالسٹائی نے اپنے شاہکار ناول اینا کرینینا کی پہلی سطر میں ایک ابدی سچائی بیان کی تھی، اس کا اردو ترجمہ کچھ یوں کیاجا سکتا ہے: ’ہر خوش باش گھرانہ ایک جیسا ہوتا ہے لیکن ہر ناخوش گھرانہ اپنے الگ انداز سے ناخوش ہوتا ہے‘۔ اسے شادی شدہ جوڑوں پر بھی فٹ کر سکتے ہیں تھوڑی سی ترمیم کے ساتھ کہ ہر شادی شدہ جوڑے کی الگ کہانی ہوتی ہے، جو اپنی شادی سے غیر مطمئن اور ناخوش ہیں، ان کی اپنی اپنی وجوہات ہوتی ہیں جنہیں دور سے سمجھنا قطعی طور پر ناممکن ہے۔
اس لیے ایک صاف اور سیدھی بات یہ ہے کہ ہم میں سے کسی کو بھی عماد وسیم یا کسی بھی بریک اپ کرنے والے جوڑے پر ججمنٹ دینے سے گریز کرنا چاہیے۔ ہم دور بیٹھے ہیں، ہمارے سامنے تصویر ہی مکمل نہیں، حقائق سے ہمیں واقفیت نہیں، سب سے بڑھ کر یہ کہ جب ایک فریق خاموش ہے، اس معاملے کو سوشل میڈیا پر نہیں اچھالنا چاہتا مگر دوسرا بول رہا ہے تو اس کی یک طرفہ باتیں سن کر ہمیں فیصلہ نہیں دینا چاہیے۔ دراصل یہ ہمارا کام ہے ہی نہیں۔ بریک اپ ہوا ہے، یہ ہمیشہ تکلیف دہ ہوتا ہے ، دونوں فریقوں کے لیے۔ جو بظاہر خوش نظر آ رہا یا جس نے دوسری شادی کر لی، وہ بھی تکلیف سے گزرا ہوتا ہے۔ ایسے فیصلے کبھی آسان نہیں ہوتے۔ بعض زخم نظر نہیں آتے۔ یہ بھی مگر حقیقت ہے کہ بعض ریلیشن ایسے بن جاتے ہیں کہ انہیں آدمی ہو یا عورت نہ چاہتے ہوئے بھی ختم کر دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:فاطمہ بھٹو کس قیامت سے گزریں؟
میری یہ بات صرف عماد وسیم یا کسی مرد کے لیے نہیں۔ میرا اپنا یہی طریقہ خواتین کے لیے بھی ہے۔ مجھے ان باتوں پر کوفت ہوتی ہے کہ فلاں خاتون نے اتنے سال شادی شدہ زندگی گزارنے کے بعد اپنے خاوند سے طلاق لے لی، اپنے بچوں کا بھی خیال نہیں کیا وغیرہ وغیرہ۔ مشہور کلاسیکل ڈانسر ناہید صدیقی کے بارے میں بھی یہی کہا گیا کہ 19 سال بعد انہوں نے ضیا محی الدین سے طلاق کیوں لے لی؟ فریال گوہر نے جمال شاہ سے ڈائیورس لی تو پھر بھی یہ کہا گیا۔ بھئی اپنی زندگی کو وہ بہتر جانتی ہے، جب تک برداشت ہوسکا کرتی رہی۔ بچوں کی خاطر کب تک کوئی اپنی زندگی جہنم بنائے رکھ سکتا ہے؟
گلوکارہ ، اداکارہ عارفہ صدیقی نے اپنی عمر سے دوگنے بڑے ایک معروف کلاسیکل گلوکار، فن کار سے شادی کی تو بہت باتیں ہوئیں۔ مگر کیوں؟ اس کی زندگی ہے، وہ اپنا برا بھلا بہتر جانتی ہے۔ جب اسے کوئی مسئلہ نہیں تو پنجابی محاورے کے مطابق ’تسی مامے ہوندے ہو؟‘ محترمہ عارفہ صدیقی 2-3 سال قبل بیوہ ہوگئیں، اب ان کی شادی اپنے استاد کے ایک شاگرد سے ہوئی ہے، جو شاید عارفہ سے چند سال چھوٹے ہیں، اس پر بھی کوئی نہ کوئی اعتراض کر دیتا ہے۔ آج کل میاں بیوی اکھٹے ویلاگ کرتے ہیں، دونوں کو خوش اور ہنستا مسکراتا دیکھنا اچھا لگتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی اور اپنی خوشیوں کی پروا کریں یا ٹاکسک لوگوں کے تبصروں کو اہمیت دیں؟ ظاہر ہے اپنی خوشیوں کو ترجیح دیں۔
میری فیورٹ اداکارہ، کامیڈین بشریٰ انصاری نے 36 برس بعد اپنے خاوند اقبال انصاری سے علیحدگی اختیار کی۔ ڈیڑھ دو برس قبل انہوں نے ہدایتکار، اداکار اقبال حسین سے شادی کر لی۔ اچھا کیا، شرعی حق تھا، اسے استعمال کیا۔ اللہ انہیں خوش وخرم رکھے، آمین۔
میری رائے اس حوالے سے بہت واضح اور غیر مبہم ہے۔ ہر ایک کو اپنی زندگی گزارنے کا حق ہے، اس کے مطابق فیصلے لینے کا۔ اس حوالے سے کوئی پابندی ہوسکتی ہے تو وہ یہ کہ یہ سب شرعی تقاضوں کے مطابق کیا جائے۔ اس کے بعد کسی پر کوئی قانونی، اخلاقی، شرعی اعتراض نہیں ہوسکتا۔
مجھے ایک پروفیسر دوست کا واقعہ یاد آگیا۔ 8-10 سال پہلے کی بات ہے۔ ان کی اپنی بیگم سے طلاق ہوگئی تھی اور وہ بھی خاتون کے کہنے پر، یعنی ایک طرح سے خلع ہی ہوئی۔ علیحدگی کے 2-3 برس بعد انہوں نے اپنا گھر پھر سے بسایا، ایک جگہ ارینج میرج ہوئی۔ شادی کے کچھ دنوں بعد ایک نجی محفل میں بات ہوئی، تاسف سے بتا رہے تھے کہ میں نے مختصر سا دعوت ولیمہ رکھا تھا، صرف چند دوست اور کولیگز مدعو تھے، مگر حیران کن بات یہ ہے کہ جس کسی کو پتا چلا کہ پروفیسر ۔۔۔۔ نے دوسری شادی کی ہے، اس نے بغیر پوری بات معلوم کیے لعن طعن کی ۔ ان کے ایک دوست ولیمہ ڈنر پر آئے، واپس گھر گئے تو ان کی بیٹی جو پروفیسر صاحب کی شاگردہ تھی اور اچھے ٹیچر کے طور پر بہت پسند کرتی تھی، انہیں بتایا تو وہ حیرت سے بولی ، ’اچھا! میں تو انہیں شریف آدمی سمجھتی تھی‘۔
یہی بات 2-3 اور مہمانوں نے بھی کہی کہ ہم آنے سے پہلے قریب اپنے کسی دوست یا عزیز کے گھر گئے تو وہاں بھی خاتون خانہ نے یہ سنتے ہی ناک بھوں چڑھائی اور پروفیسر صاحب پر لعن طعن کی۔ ایک نے تو مہمان کو مشورہ دیا کہ وہ ولیمہ میں شریک ہی نہ ہوں۔ اس بے چارے نے وضاحت پیش کی کہ ان کی پہلی بیوی سے علیحدگی ہوچکی ہے اور وہ 2 برسوں سے رنڈوا ہے، اپنا گھر تو بسانا تھا۔ اس پر بھی میزبان خاتون مطمئن نہ ہوئی، بولی ’یقیناً اس منحوس کا قصور ہوگا، طلاق ایسے نہیں ہوئی ہوگئی تو پھر کیا ہے، اب دوسری شادی کیوں کر رہا ہے، شرم نہیں آتی ؟ وغیرہ وغیرہ‘۔
میرے دوست پروفیسر صاحب کہنے لگے، یار میں نے تو شرعی تقاضا پورا کیا ہے، اس میں میرا کیا قصور ہے؟ ہر طرف سے مجھے ہی باتیں کیوں سنائی جا رہی ہیں؟ میرے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا۔
ہمارے معاشرے میں یہ تضادات موجود ہیں کہ غیر رسمی (ناجائز) تعلقات پر خاموشی اختیار کی جاتی ہے، مگر قانونی نکاح پر شدید ردعمل سامنے آتا ہے۔جیسے ہی اس نے نکاح کا شرعی قدم اٹھایا، اہل خانہ، خاندان اور سماج بھی طنز کے نشر ہاتھ میں لے کر چبھونا شروع کر دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی خطرناک ہتھیار جس نے دیگر سپرپاورز کو ہلا دیاٖ
ویسے اس معاملے کو اب تک جتنا دیکھا ہے، اس میں عماد وسیم کی پہلی یا سابق بیوی ثانیہ اشفاق شدید ردعمل کا شکار نظر آئیں۔ عماد وسیم کے ساتھ ان کی شادی 5-6 سال رہی، 3 بچے ہیں۔ اب علیحدگی ہوگئی، وہ اپنے بچوں کے لیے ان کے والد کی جانب سے مالی مدد کی خواہش مند بھی ہیں، مگر اپنی پوری قوت اور (بدقسمتی سے) تمام تر تلخی، غصے اور کڑواہٹ کے ساتھ عماد وسیم کے خلاف کمپین چلا رہی ہیں۔ طرح طرح کے الزام داغے جا رہے ہیں۔ خاتون کو یہ احساس بھی نہیں کہ وہ اپنا کیس سوشل میڈیا پر ڈال کر اپنے بچوں کی پرائیویسی ختم کر رہی ہیں اور اگر بچوں کے ذہنوں میں والد کے خلاف زہر بھر دیا گیا تو نقصان کس کا ہے؟ ظاہر ہے معصوم بچے ہی متاثر ہوں گے۔
سادہ سی بات ہے کہ اگر عماد وسیم میں کوئی اچھائی تھی تو ان کے ساتھ گزرے 6 برسوں میں کچھ اچھی میموریز بھی بنی ہوں گی، ان کے وسیلے سے ہی اپنے سابق خاوند کو اس کے حال پر چھوڑ کر اپنی زندگی پر توجہ دیں اپنے بچوں پر فوکس کریں۔ اگر سابق خاوند برا تھا، عیاش تھا یا وفادار نہیں تھا تو پھر اب تو وہ الگ ہوگیا ہے۔ بہتر یہی ہے کہ تلخ ماضی کو پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھا جائے۔
ایک ’برے اور خراب‘ شخص کے ساتھ تعلق ٹوٹ جانا ہی بہتر ہے، وہ تو ٹوٹ گیا، اب ردعمل کی نفسیات سے نکلیں۔ جو قانونی حقوق آپ کے ہیں وہ لینے کی کوشش کریں، اس میں ہر کوئی معاونت کرے گا۔ کسی بھی علیحدگی کے بعد مسلسل محاذ آرائی کسی کے لیے بھی مفید نہیں ہوتی۔ پھر جو رشتہ، تعلق ٹوٹ گیا اب اس کی پاداش میں سابق خاوند کو تباہ و برباد کرنے میں اپنا سب کچھ داؤ پر لگانا کہاں کی دانشمندی ہے؟
پھر بعض الزام تو بہت ہی ذاتی نوعیت کے ہیں، جیسے یہ کہ 2023 میں خاوند نے میرا ابارشن کرایا۔ یہ ایک سنگین الزام ہے اور اس کا درست فورم عدالت ہے، نہ کہ سوشل میڈیا۔ ایسے فیصلوں کے پس منظر میں کیا حالات تھے، یہ صرف متعلقہ فریقین ہی جانتے ہیں۔ ایک انتہائی ذاتی نوعیت کے مسئلے کو یوں میڈیا، سوشل میڈیا پر اچھالنا اور اسے سابق خاوند کے میڈیا ٹرائل کے لیے استعمال کرنا مسئلے کے حل کے بجائے مزید پیچیدگی پیدا کر دیتا ہے۔
پھر یہ محترم خاتون ثانیہ اشفاق، ملک کے صدر، وزیراعظم، آرمی چیف، پی سی بی اور نجانے کس کس کو اپیل کر کے عماد وسیم کے خلاف بھڑکا رہی ہیں۔ انہیں اسلام آباد یونائیٹڈ پر بھی غصہ ہے کہ انہوں نے عماد وسیم کو کیوں ہائر کر لیا۔ ان کو کہہ رہی ہیں کہ اسے نکال دو۔ ساتھ ہی غم وغصے میں اسلام آباد یونائٹیڈ کے بائیکاٹ کی سوشل میڈیا کمپین چلانے کی بھی کوشش کر رہی ہیں۔ اس پر اب ہم کیا تبصرہ کریں؟ پیشہ ورانہ معاملات کو نجی تنازعات سے جوڑ دینا ایک خطرناک رجحان ہے۔
بریک اپ بہت گھروں میں ہوتے ہیں، ہمارے ہاں تو ویسے بھی اب اس کا تناسب بڑھ گیا ہے۔ اسے ایسے ٹاکسک انداز میں کوئی کوئی لیتا ہے۔ اس زہر اور غصے کی آگ سے مگر اپنا وجود ہی جھلستا ہے، اپنا ہی گھر، بچے اور خاندان متاثر ہوتا ہے۔ یہ بات سمجھنی چاہیے۔ ہم عام سوشل میڈیا کے لوگ اس معاملے میں اور تو کچھ نہیں کر سکتے، کم سے کم اپنی زبان ہی بند رکھیں۔ خواہ مخواہ کے مامے بننے کی کوشش نہ کریں۔ جس معاملے کا پوری طرح علم نہیں، اس پر رائے بھی نہ دیں۔
اس سے پہلے کہ کوئی مجھ پر تنقید کرے کہ میں نے کالم لکھا۔ تو پیارے قارئین میں بھی رائے نہیں دینا چاہتا۔ مجھے کچھ علم نہیں کہ اس میں کون سچا، کون جھوٹا ہے؟ نہیں معلوم کہ عماد وسیم کی زندگی اتنی تکلیف دہ کیسے ہوگئی کہ اس نے علیحدگی اختیار کر لی، دوسری شادی بھی کرنا پڑی۔ میں معلوم بھی نہیں کرنا چاہتا۔ مجھے عماد وسیم سے کوئی دلچسپی ہے نہ اس سے کبھی ملاقات ہوئی۔ وہ بطور کرکٹر بھی مجھے زیادہ پسند نہیں، ایک اوسط درجے کا آل راونڈر ہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:نظر نہ آنے والے ہتھیاروں سے کیسے بچاؤ کیا جائے؟
اصولی بات یہ ہے کہ جس کسی کو شکوہ، شکایت یا مسئلہ ہے تو وہ قانون کی راہ اپنائے عدالت جائے۔ بطور ایل ایل بی گریجوایٹ اور ایک لائرز فیملی سے تعلق رکھنے کی بنا پر اچھی طرح جانتا ہوں کہ پاکستانی قوانین میں کمزوریاں سہی، مگر بہرحال زیادہ تر فیملی کیسز خواتین کے حق میں جاتے ہیں۔ ریلیف مل ہی جاتا ہے۔ یہ بات کسی بھی فیملی کیس لڑنے والے وکیل سے پوچھ لیں۔
اصل مسئلہ عماد وسیم یا ان کی سابقہ اہلیہ نہیں، اصل مسئلہ ہمارا فوری ججمنٹ دینے کا رویہ ہے۔ یہ ہمارا کام نہیں کہ نجی معاملات میں جج بن جائیں۔ میرا یہ سب لکھنے کا مقصد صرف ایک ہی ہے کہ اس سے گریز کرنا چاہیے۔ لوگوں کو اپنے ذاتی مسائل خود سلجھانے دیں۔ انہیں سوشل میڈیا پر آگ نہ بھڑکانے نہ دیں۔ اپنے انتقام کی خاطر دوسرے فریق کی زندگی اجیرن بنانے کی کوشش کا حصہ نہ بنیں۔ آخر میں ایک بار پھر اپنا نقطہ نظر واضح کر دوں کہ یہ بات بھی واضح رہے کہ اگر کسی خاتون کے ساتھ واقعی ناانصافی ہوئی ہے تو اسے انصاف ملنا چاہیے، مگر اس کا راستہ قانونی فورم ہے، سوشل میڈیا عدالت نہیں۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔











