وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے جیل میں قید بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی رہائی کے لیے اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کے تحت ’عمران خان رہائی فورس‘ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے، جو عمران خان کی رہائی تک سرگرم رہے گی۔
وزیر اعلیٰ نے یہ خصوصی فورس بنانے کا اعلان اسلام آباد میں اُس وقت کیا جب اپوزیشن اتحاد کی جانب سے عمران خان کے بہتر علاج کے لیے دھرنا دیا گیا تھا۔ اس دوران کارکنان نے خیبر پختونخوا کے تمام داخلی اور خارجی راستے احتجاجی دھرنوں کے ذریعے بند کر دیے تھے، تاہم اس کے کوئی خاص نتائج سامنے نہیں آ سکے۔
ملک بھر کے نوجوانوں پر مشتمل فورس
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے مطابق ’عمران خان رہائی فورس‘ کے لیے ملک بھر میں نوجوانوں کی رکنیت کی جائے گی، جس میں آئی ایس ایف، انصاف یوتھ ونگ، ویمن ونگ، مائنارٹی ونگ، پروفیشنلز بلکہ ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہو سکیں گے۔ یہ فورس پرامن جدوجہد کرے گی اور عمران خان کی رہائی کے لیے فعال رہے گی۔
یہ بھی پڑھیے سہیل آفریدی کس پی ٹی آئی رہنما کے ذریعے اسٹیبلشمنٹ سے رابطے میں ہیں؟
انہوں نے مزید کہا کہ فورس کے ارکان کے لیے ممبرشپ کارڈز جاری کیے جائیں گے، جبکہ عید کے بعد پشاور میں نوجوانوں سے باضابطہ حلف لیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ اس تحریک کے لیے ایک مضبوط چین آف کمانڈ تشکیل دی جائے گی اور ہر ہدایت عمران خان کی نامزد قیادت کے ذریعے موصول ہوگی۔
پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے سیکریٹری اطلاعات اکرام کٹھانہ نے بتایا کہ اس فورس میں ہر وہ شخص شامل ہو سکتا ہے جو عمران خان کی رہائی کے لیے کام کرنا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق رہائی فورس ملک بھر میں اسٹریٹ مومنٹم پیدا کرے گی اور لوگوں کو پرامن احتجاج کے لیے تیار کرے گی۔
انہوں نے بتایا کہ فورس عمران خان کی ہدایات پر عمل کرے گی اور یہ پارٹی کی تمام ذیلی تنظیموں سے بالاتر ہوگی۔ ’اس میں یوتھ، مرد، خواتین اور اقلیتی ونگ کے افراد شامل ہوں گے اور سب کا ایک ہی مقصد ہوگا: خان کی رہائی۔‘
اکرام کٹھانہ کے مطابق فورس کی تیاری شروع ہو چکی ہے اور ممبرشپ کارڈز بھی چند دن میں تیار ہو جائیں گے، جبکہ حلف برداری کے بعد یہ فورس باقاعدہ طور پر فعال ہو جائے گی۔
وزیر اعلیٰ کے اعلان کے بعد اب تک کیا پیش رفت ہوئی ہے؟
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے اسلام آباد میں عمران خان رہائی فورس کے اعلان کے بعد کہا تھا کہ چند روز میں باقاعدہ ممبرشپ کارڈز تیار ہو جائیں گے، تاہم پارٹی کے کئی افراد اس حوالے سے بے خبر نظر آتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی حالیہ سرگرمیاں و بیانات، کیا وہ ’گڈ بوائے‘ بن گئے؟
پی ٹی آئی کے ایک رہنما نے بتایا کہ ممکن ہے سہیل آفریدی نے باقاعدہ مشاورت کے بغیر ہی فورس بنانے کا اعلان کیا ہو، جو ان کی حالیہ اسٹریٹ مہم کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق ابھی تک پارٹی کو اس حوالے سے کوئی واضح ہدایات موصول نہیں ہوئیں کہ طریقۂ کار کیا ہوگا، ایک صوبے میں کتنے افراد شامل ہوں گے اور کمانڈ کس کے پاس ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ انہیں لگتا ہے عمران خان رہائی فورس ٹائیگر فورس کی طرز پر ہوگی، جو آگاہی مہم میں فعال کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک اس فورس میں شامل ہونے کے لیے اپلائی کرنے کا بھی کوئی واضح طریقۂ کار سامنے نہیں آیا۔
’میں خود بھی اس فورس کا حصہ بننا چاہتا ہوں، لیکن کس طرح بنوں گا، یہ ابھی واضح نہیں۔‘
پی ٹی آئی کے ایک اور رہنما نے بتایا کہ اسٹریٹ موومنٹ کی ذمہ داری سہیل آفریدی کو سونپی گئی ہے اور یہ فورس بھی اسی مقصد کے لیے بنائی گئی ہے۔ ان کے مطابق فورس کے لیے باقاعدہ رجسٹریشن ہوگی اور خواہشمند کارکن اس کا حصہ بن سکیں گے، جنہیں ممبرشپ کارڈ جاری کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس فورس کی ذمہ داری احتجاج، جلسے جلوس کے انعقاد اور ممکنہ احتجاجی تحریک کے لیے تیاری اور اسٹریٹ مہم چلانا ہوگی۔
عمران خان کی رہائی کے لیے نئی فورس کس قدر کارآمد ہوگی؟
پی ٹی آئی میں سہیل آفریدی کے قریبی حلقے اس نئی فورس کے اعلان پر خوش ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ اسٹریٹ مہم کو تیز کیا جائے۔ تاہم تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس فورس کا اعلان بنیادی طور پر کارکنوں کو متحرک رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔
صحافی عارف حیات، جن کی سیاسی صورتحال پر گہری نظر رہتی ہے، کے مطابق سہیل آفریدی کارکنوں کو انگیج رکھنا چاہتے ہیں اور اس فورس کے قیام کا اعلان بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ان کے مطابق اگر عمران خان احتجاج اور جلسوں کے ذریعے باہر آ سکتے تو کب کے باہر آ چکے ہوتے۔
’علی امین گنڈاپور بڑے قافلے کے ساتھ ایک نہیں بلکہ کئی بار اسلام آباد گئے، نتیجہ کیا نکلا، وہ سب کے سامنے ہے۔‘
عارف حیات کے مطابق اس فورس سے کارکن وقتی طور پر سرگرم ہوں گے، سہیل آفریدی پر اعتماد رکھیں گے اور وقتاً فوقتاً جلسے جلوس اور نعرے بازی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ فورس بنانا پی ٹی آئی کی روایت ہے اور عمران خان نے بھی کورونا کے دوران ٹائیگر فورس کے نام سے رضاکار فورس بنائی تھی، جس کی کارکردگی سب کے سامنے ہے۔
انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی کو بھی بخوبی علم ہے کہ عمران خان کس طرح باہر آ سکتے ہیں اور اس راہ میں کیا رکاوٹیں ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس سے قبل نواز شریف حکومت کے خلاف احتجاج کے دوران پشاور کے فضل الٰہی نامی رکن صوبائی اسمبلی ’گل خان فورس‘ کے ساتھ ڈنڈے لے کر اسلام آباد گئے تھے، لیکن شیلنگ اور لاٹھی چارج کے دوران وہ غائب ہو گئے تھے۔ ’عمران خان رہائی فورس‘ اس فورس کا انجام بھی کچھ ایسا ہی نظر آتا ہے۔













