امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو اس کے جوہری پروگرام پر معاہدہ کرنے کے لیے 10 سے 15 دن کی مہلت دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ڈیل نہ ہوئی تو انتہائی برے نتائج سامنے آئیں گے۔ دوسری جانب تہران نے بھی واضح کیا ہے کہ کسی بھی حملے کی صورت میں خطے میں موجود امریکی اڈے نشانہ بن سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایجنڈے میں پاکستانی آرمی چیف سے تیسری ملاقات شامل نہیں، وائٹ ہاؤس
امریکی صدر کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں امریکی جنگی بحری جہازوں اور لڑاکا طیاروں کی بڑی تعداد تعینات کی جا چکی ہے، جس سے خطے میں وسیع تر جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات اچھی پیشرفت کر رہے ہیں، تاہم تہران کو ایک بامعنی معاہدہ کرنا ہوگا۔
ایران نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ وہ جنگ کا آغاز نہیں کرے گا، لیکن اگر اس پر فوجی جارحیت مسلط کی گئی تو فیصلہ کن اور متناسب جواب دیا جائے گا۔ خط میں خبردار کیا گیا کہ خطے میں موجود مخالف قوتوں کے تمام اڈے اور تنصیبات جائز اہداف ہوں گے۔
کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جبکہ روس نے بھی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تحمل اور سفارتی راستہ اختیار کرنے پر زور دیا ہے۔
مزید پڑھیں: کابینہ اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سو گئے، ویڈیو وائرل
امریکا اور اسرائیل ماضی میں ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنا چکے ہیں، جبکہ واشنگٹن کا مطالبہ ہے کہ ایران یورینیم افزودگی مکمل طور پر ترک کرے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ اپنے میزائل پروگرام یا علاقائی پالیسیوں پر کوئی سمجھوتا نہیں کرے گا۔
خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں اور سخت بیانات کے تبادلے نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے، اور آئندہ 10 سے 15 دن اس کشیدہ صورتحال میں نہایت اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔














