ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا ہے کہ ترکیہ غزہ کی بحالی اور استحکام کے لیے ہر ممکن طریقے سے کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
فیدان کا کہنا تھا کہ معاملہ چاہے انسانی امداد کا ہو، غزہ کے انتظامی ڈھانچے کی تشکیل کا، انفرا اسٹرکچراور سپراسٹرکچر کی بحالی کا یا بین الاقوامی استحکام فورس میں شمولیت کا، انقرہ ہر شعبے میں ہر قسم کی معاونت فراہم کرنے کو تیار ہے۔
یہ بیان انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر صدارت ہونے والے بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کے فوراً بعد دیا۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ بورڈ آف پیس اجلاس میں وزیراعظم نے فلسطینی مؤقف بھرپور انداز میں پیش کیا، عطا اللہ تارڑ
اجلاس میں 45 سے زائد ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی، جہاں غزہ کی تعمیر نو اور بین الاقوامی استحکام کی وسیع تر کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ سربراہانِ مملکت اور حکومت کی سطح پر ہونے والا یہ پہلا اجلاس علامتی اہمیت کا حامل ہونے کے ساتھ ساتھ ٹھوس وعدوں کا باعث بھی بنا۔
فیدان نے کہا کہ غزہ کی بحالی صرف عمارتوں کی تعمیر تک محدود نہیں بلکہ مقامی انتظامی اداروں کی فعالیت کی بحالی بھی ناگزیر ہے۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ بورڈ آف پیس کے چارٹر پر دستخط کر دیے
ان کے بقول غزہ کا بڑا حصہ تباہ ہو چکا ہے، اس لیے مقامی حکومت کے اداروں کی ازسرِنو تشکیل اور عوام کو فراہم کی جانے والی بنیادی خدمات کی استعداد میں اضافہ ضروری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ غزہ کی نیشنل کمیٹی برائے انتظام کے ساتھ رابطہ جاری ہے، جو 15 رکنی ٹیکنوکریٹ باڈی ہے اور اس کی سربراہی فلسطینی ماہر علی شعث کر رہے ہیں۔
ترک صدر رجب طیب اردوان نے حال ہی میں علی شعث سے حکمرانی اور تعمیر نو کے منصوبوں پر تبادلہ خیال بھی کیا۔
مزید پڑھیں: 8 عرب اسلامک ممالک کا غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی امریکی دعوت کا خیرمقدم، مشترکہ اعلامیہ جاری
وزیر خارجہ نے کہا کہ ترکیہ ہ فوری انسانی امداد سے آگے بڑھ کر صحت، تعلیم اور دیگر شعبوں میں استعداد کار بڑھانے کے لیے بھی مدد فراہم کرنے کو تیار ہے۔
پولیس تربیت اور ممکنہ عسکری کردار
وزیر خارجہ ہاکان فیدان کے مطابق بحران کے آغاز سے ہی ترکیہ نے سرکاری اداروں اور سول سوسائٹی تنظیموں کے ذریعے انسانی امدادی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ جمعرات کو امدادی سامان لے کر ایک ترک بحری جہاز مصر کی بندرگاہ پہنچا ہے جہاں سے سامان غزہ روانہ کیا جائے گا، جبکہ ابتدائی طور پر 20 ہزار رہائشی کنٹینرز بھیجنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ترک وزارتِ صحت کے ذریعے طبی انخلا اور فیلڈ اسپتالوں کی خدمات بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔
مزید پڑھیں: سعودی کابینہ نے غزہ بورڈ آف پیس کی حمایت کردی، امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کا خیرمقدم
ہاکان فیدان نے کہا کہ غزہ میں 20 لاکھ سے زائد افراد کے لیے امن و امان اور عوامی خدمات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے مقامی پولیس فورس کے قیام کی کوششیں جاری ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ترکیہ اس مقصد کے لیے پولیس اہلکاروں کی تربیت فراہم کرنے کا عزم رکھتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر متعلقہ فریقین متفق ہوں تو ترک صدر استحکام فورس میں فوج بھیجنے کے خواہاں ہیں۔
فیدان نے زور دیا کہ ترکیہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے مضبوط احساسِ ذمہ داری کے ساتھ اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔













