پاکستان کرکٹ ٹیم کے آل راؤنڈر عماد وسیم کے خلاف ثانیہ اشفاق نےکہا ہے کہ عماد وسیم مسلسل الزام عائد کرتے رہے کہ وہ اپنے بچوں سے انہیں دور رکھتی ہیں جبکہ حقیقت میں دوران حمل انہوں نے ہی عماد سے رابطہ کیا تھا۔
ثانیہ اشفاق نے جولائی 2025ء کی واٹس ایپ چیٹس کے اسکرین شاٹس بھی شیئر کیے جن میں انہوں نے لکھا کہ انہیں اسپتال میں مقررہ وقت سے پہلے داخل کر کے زچگی کرنی پڑ رہی ہے کیونکہ ذہنی دباؤ بچے پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ انہوں نے اپیل کی کہ ذاتی اختلافات ایک طرف رکھے جائیں۔ چار زندگیاں خطرے میں ہیں لہذا معاملہ ختم کیا جائے۔
View this post on Instagram
ثانیہ اشفاق نے مزید کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ بچے کی پیدائش کے وقت عماد وسیم اسپتال میں موجود ہوں تاکہ سب سے پہلے اپنے بیٹے کو گود میں لے سکیں، جو نہ صرف ان کا حق ہے بلکہ بطور باپ ان کی ذمہ داری بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معصوم بچے کا کوئی قصور نہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اگر آپ آنے کا فیصلہ کریں تو براہِ کرم مجھے آگاہ کر دیں۔ میرے ساتھ صرف ایک ہی شخص کو اجازت ہوگی اور وہ آپ ہوں گے کوئی اور نہیں۔ اگر نہیں تو میں اسپتال میں بالکل اکیلی جاؤں گی۔
یہ بھی پڑھیں: عماد وسیم کی شادی کے بعد ثانیہ اشفاق پہلی بار منظر عام پر، اہم رازوں سے پردہ اٹھا دیا
اس حوالے سے عماد وسیم نے ثانیہ اشفاق کو خبردار کیا کہ اگر انہوں نے یا ان کے اہلِ خانہ سے دوبارہ رابطہ کیا تو قانونی کارروائی کی جائے گی۔
واضح رہے کہ ثانیہ اشفاق نے گزشتہ روز ایک ویڈیو پیغام میں عماد وسیم پر دسمبر 2023ء میں اسقاطِ حمل پر مجبور کرنے کا الزام بھی عائد کیا تھا اور انہیں قاتل قرار دیا ساتھ ہی دعویٰ کیا تھا کہ ان کے پاس اپنے الزامات کے ثبوت موجود ہیں۔













