افغانستان انٹرنیشنل کی تازہ رپورٹ کے مطابق افغان شہریوں کا کہنا ہے کہ پاکستانی ویزے کابل میں بلیک مارکیٹ میں ایک ہزار امریکی ڈالر سے 1,500 امریکی ڈالر تک فروخت کیے جا رہے ہیں، جبکہ سرکاری فیس محض 25 امریکی ڈالر ہے۔ کئی درخواست گزاروں نے بتایا کہ بغیر سفارت خانے سے منظور شدہ ٹریول ایجنسیوں کو رشوت دیے ویزا حاصل کرنا یا تو ناممکن ہے یا مہینوں لگ جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:باجوڑ خودکش حملے میں افغان بمبارملوث، دہشتگردی کے لیے افغان سرزمین استعمال ہو رہی ہے، سیکیورٹی ذرائع
کئی افغان شہریوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے پاکستان کے سفارتخانوں اور قونصل خانوں میں ویزا حاصل کرنے کے لیے بڑی رقم ادا کی تاکہ پراسیسنگ تیز اور یقینی ہو۔ طبی ویزے بلیک مارکیٹ میں 1,300 سے 1,500 امریکی ڈالر اور سیاحتی ویزے 1,500 سے 2,000 امریکی ڈالر میں فروخت کیے جا رہے ہیں۔ بعض درخواست گزاروں کا کہنا تھا کہ انہیں لازماً سفارتخانوں سے رجسٹرڈ ٹریول ایجنسیوں سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔
ایک درخواست گزار نے بتایا کہ انہوں نے طبی ویزے کے لیے 1,500 افغانیاں (افغان کرنسی )ادا کیں، لیکن 4 ماہ بعد ویزا نہیں ملا۔ پھر انہوں نے کابل کی ایک کمپنی کو 1,300 امریکی ڈالر دیے اور اسی دن انہیں سفارتخانے کے انٹرویو کے لیے بلایا گیا، اور اسی دن ویزا جاری کر دیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر وہ 1,300 کے بجائے 1,500 افغانیاں (افغان کرنسی) بتاتے تو ویزا مسترد ہو سکتا تھا۔

کابل میں پاکستانی سفارتخانے نے ان الزامات پر کوئی جواب نہیں دیا۔ کابل اور ننگرہار کی متعدد ٹریول ایجنسیوں نے تصدیق کی کہ بلیک مارکیٹ میں ویزے فروخت کیے جا رہے ہیں اور جو درخواست گزار سرکاری طریقہ کار پرعمل کرتے ہیں انہیں مہینوں انتظار کرنا پڑتا ہے اور کبھی کبھار ان کی درخواستیں مسترد بھی ہو جاتی ہیں۔
افغان شہریوں نے طالبان حکام سے درخواست کی ہے کہ وہ پاکستانی حکام سے رابطہ کر کے غیر قانونی ویزا فروخت کو روکیں۔ سابقہ افغان حکومت کے خاتمے کے بعد یہ مسئلہ مزید بڑھ گیا ہے اور طالبان کے 5 سالہ حکمرانی میں بھی یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکا۔
یہ بھی پڑھیں:
پاکستانی حکومت کے مطابق ویزے کا اجرا مکمل طور پر ڈیجیٹل، بایومیٹرک اور مرکزی نظام کے ذریعے شفاف اور قابلِ ریکارڈ پراسیسنگ کے لیے کیا جاتا ہے، جس میں غیر قانونی نقد لین دین، شناخت کی تبدیلی اور غیر مجاز پراسیسنگ کی روک تھام ممکن ہے۔













