اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر مائیک ہکابی نے عندیہ دیا ہے کہ اگر اسرائیل مشرقِ وسطیٰ کے بیشتر حصے پر قبضہ کرلے تو انہیں اس پر اعتراض نہیں ہوگا۔
یہودی قوم کے زمین پر حق سے جوڑتے ہوئے ان کا یہ متنازع مؤقف معروف امریکی صحافی ٹکر کارلسن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں سامنے آیا، جو جمعہ کو نشر ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا اسرائیل کا نگراں نہیں، شراکت دار ہے، نائب امریکی صدر جے ڈی وینس
انٹرویو کے دوران اسرائیل کی جغرافیائی سرحدوں پر بات کرتے ہوئے ہکابی نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ سرحدیں مقدس انجیل میں بیان کردہ حدود پر مبنی ہیں۔
کارلسن نے نشاندہی کی کہ بائبل کی ایک آیت کے مطابق یہ زمین حضرت ابراہیمؑ کی اولاد سے وعدہ کی گئی تھی، جس میں عراق میں دریائے فرات سے لے کر مصر میں دریائے نیل تک کا علاقہ شامل ہے۔ اس خطے میں موجودہ لبنان، شام، اردن اور سعودی عرب کے کچھ حصے شامل ہوتے ہیں۔
US policy in the Middle East is being driven by fundamentalist nutters
"Mike Huckabee says it would be ‘fine’ if Israel took all Middle East land. Trump ally tells Tucker Carlson Israel has biblical right to land from ‘wadi of Egypt to the great river’"https://t.co/jTI9EAZezE
— William Dalrymple (@DalrympleWill) February 21, 2026
اس پر مائیک ہکابی نے کہا کہ اگر اسرائیل یہ سب لے لیں تو بھی ٹھیک ہوگا، بعد ازاں کارلسن نے وضاحت چاہی کہ کیا وہ واقعی اسرائیل کے پورے خطے پر پھیلاؤ کی حمایت کرتے ہیں، جس پر مائیک ہکابی نے جواب دیا، “وہ اسے لینا نہیں چاہتے، وہ اس کا مطالبہ بھی نہیں کر رہے۔”
بعد میں ہکابی نے اپنے بیان کو کسی حد تک مبالغہ آمیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ’کچھ حد تک مبالغہ آرائی‘ تھی، تاہم انہوں نے یہ دروازہ کھلا رکھا کہ اگر اسرائیل پر مختلف ممالک حملہ کریں اور وہ جنگ جیت کر زمین حاصل کرلے تو یہ ’ایک الگ بحث‘ ہوگی۔
امریکی محکمہ خارجہ نے اس سوال پر کوئی تبصرہ نہیں کیا کہ آیا وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی امریکی سفیر مائیک ہکابی کے خیالات سے اتفاق کرتے ہیں یا نہیں۔
مزید پڑھیں: غزہ میں نسل کشی کے باوجود امریکا اسرائیل کو 6.4 ارب ڈالر مالیت کا اسلحہ فروخت کرنے کو تیار
دوسری جنگِ عظیم کے بعد سے علاقائی سالمیت اور طاقت کے ذریعے زمین کے حصول کی ممانعت بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول رہی ہے۔ 2024 میں انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس نے فیصلہ دیا تھا کہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کا قبضہ غیر قانونی ہے جسے فوری طور پر ختم ہونا چاہیے۔
اسرائیل نے 1981 میں شام کے علاقے گولان کی پہاڑیوں کو اپنے ساتھ ضم کیا تھا، جسے عالمی برادری غیر قانونی سمجھتی ہے، تاہم امریکا وہ واحد ملک ہے جو اس علاقے پر اسرائیلی خودمختاری کو تسلیم کرتا ہے۔
2024 میں حزب اللہ کے ساتھ جنگ کے بعد اسرائیل نے لبنان کے اندر بھی 5 مقامات پر فوجی چوکیاں قائم کیں۔
JUST IN: 🇺🇸🇮🇱 US Ambassador to Israel Mike Huckabee says it would be fine for Israel to take over the entire Middle East because god gave them the land.
"It would be fine if they took it all." pic.twitter.com/Vr6qiU8ors
— BRICS News (@BRICSinfo) February 20, 2026
کچھ اسرائیلی سیاست دان بشمول وزیر اعظم نیتن یاہو کھل کر ’گریٹر اسرائیل‘ کے تصور کی حمایت کرتے رہے ہیں، 2023 میں اسرائیلی وزیر خزانہ بیزازیل اسموٹریچ نے ایک تقریب میں ایسے نقشے کے ساتھ خطاب کیا جس میں فلسطینی علاقے اور لبنان، شام اور اردن کے کچھ حصے اسرائیل کا حصہ دکھائے گئے تھے، جس پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا۔
اس حالیہ انٹرویو میں مائیک ہکابی نے کہا کہ اسرائیل کے وجود کا حق بین الاقوامی قانون میں موجود ہے، تاہم انہوں نے بین الاقوامی قانونی اداروں پر بھی تنقید کی۔
انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ اور وزیر خارجہ روبیو آئی سی سی اور آئی سی جے کے خلاف سخت مؤقف اختیار کر رہے ہیں کیونکہ ان کے بقول یہ ادارے ’منصفانہ قانون کے اطلاق‘ سے ہٹ چکے ہیں۔
مزید پڑھیں: اسرائیل پر تنقید کے جرم میں برطانوی صحافی سامی حامدی امریکا میں گرفتار
اپنے سفارتی دور میں ہکابی کو اس بات پر بھی تنقید کا سامنا رہا ہے کہ وہ اسرائیلی افواج کے ہاتھوں ہلاک یا قید ہونے والے امریکی شہریوں کے حقوق کے لیے بھرپور آواز نہیں اٹھا سکے۔
گزشتہ سال انہوں نے سزا یافتہ جاسوس جوناتھن پولارڈ سے ملاقات کی، جس پر امریکا میں بعض حلقوں نے ناراضی کا اظہار کیا، پولارڈ امریکی نیوی کے سابق تجزیہ کار تھے جنہوں نے خفیہ معلومات اسرائیل کو فراہم کیں اور 30 برس قید کاٹنے کے بعد 2020 میں اسرائیل منتقل ہوگئے۔
مائیک ہکابی نے کہا کہ وہ پولارڈ کے خیالات سے اتفاق نہیں کرتے، تاہم انہوں نے اس سے ملاقات کرنے پر کسی پشیمانی کا اظہار نہیں کیا۔













