آرٹ کے ذریعے انتہا پسندانہ سوچ کا مقابلہ، ڈی آئی خان کے فنکار بشیر احمد کی دلچسپ کہانی

اتوار 22 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھنے والے بشیر احمد باطش کا شمار ان فنکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے فن کی خاطر اپنی روح کو زخم لگتے دیکھے۔

ایک وہ وقت تھا جب خطے میں بدامنی کا راج تھا اور طالبان کے خوف سے بشیر نے اپنے ہی ہاتھوں سے تراشے ہوئے وہ مجسمے پاش پاش کر دیے تھے جنہیں انہوں نے برسوں کی محنت سے بنایا تھا۔ وہ لمحہ ایک آرٹسٹ کے لیے اپنے بچے کو دفن کرنے جیسا تھا، لیکن فن کبھی مرتا نہیں، وہ بس شکل بدل لیتا ہے۔

مزید پڑھیں: کوئٹہ: ’آرٹسٹ کیفے تخلیق، مکالمے اور ثقافت کا نیا مرکز

ایک منفرد فنی سفر

آج بشیر احمد باطش نے کینوس اور رنگوں کا ایک ایسا انوکھا طریقہ اپنایا ہے جو ملک بھر میں اپنی مثال آپ ہے۔ وہ اب برش یا پینسل سے نہیں، بلکہ آگ اور کاویہ سے پینٹنگز بناتے ہیں۔

بشیر بوری کے دھاگوں پر گرم کاویہ اور آگ کی لپٹوں کے ذریعے سائے اور لکیریں ابھارتے ہیں اسے پائرو گرافی بھی کہا جاتا ہے، لیکن بشیر کا انداز اس قدر پختہ ہے کہ وہ دھاگے کی بوری کو جلا کر اس میں سے زندگی کشید کر لیتے ہیں۔

انہوں نے ملک کی اہم ترین سیاسی، سماجی اور ادبی شخصیات کے پورٹریٹ اسی منفرد انداز میں تیار کیے ہیں، جنہیں دیکھ کر انسان دنگ رہ جاتا ہے کہ آگ کی حدت سے اتنی نزاکت کیسے پیدا کی جا سکتی ہے۔

یہ کام وہ کیسے کرتے ہیں؟

بشیر کا کام انتہائی باریک بینی اور مہارت کا متقاضی ہے۔ وہ دھاگے بنی ہوئی بوری کی سطح کو کینوس کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور گرم کاویہ کے ذریعے لکڑی کو مختلف درجات پر جلا کر گہرا اور ہلکا رنگ دیتے ہیں۔ اس میں غلطی کی گنجائش صفر ہوتی ہے کیونکہ ایک بار دھاگا جل جائے تو اسے مٹایا نہیں جا سکتا۔ یہ ان کے صبر اور فن پر مکمل گرفت کا ثبوت ہے۔

لیکن اتنے بڑے فنکار ہونے کے باوجود، بشیر احمد باطش آج بھی کئی خدشات کے حصار میں ہیں۔

ماضی کے تلخ تجربات اور بدامنی کی لہروں نے ان کے ذہن پر گہرے نقش چھوڑے ہیں۔ ایک حساس فنکار ہونے کے ناطے وہ آج بھی معاشرے میں موجود انتہا پسندانہ سوچ سے خائف رہتے ہیں۔

اتنا منفرد کام کرنے کے باوجود بشیر جیسے فنکاروں کو وہ پذیرائی اور حکومتی سپورٹ نہیں ملتی جس کے وہ حقدار ہیں۔

مزید پڑھیں: عالمی مقابلہ جیتنے والے بلوچستان کے سینڈ آرٹسٹ طے شدہ انعامی رقم سے محروم، مڈل مین ہزاروں ڈالر لے اڑا

آرٹ کے ذریعے گزر بسر کرنا آج کے دور میں ایک بڑا چیلنج ہے، خاص کر ایسے علاقے میں جہاں فن کی قدر کرنے والے کم اور مشکلات زیادہ ہوں۔

بشیر احمد باطش کی کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ فنکار کو خاموش تو کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کے اندر کی آگ کو بجھایا نہیں جا سکتا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کم عمر بچوں کا انٹرنیٹ کا غلط استعمال روکنے کے لیے حکومت کیا کررہی ہے؟

کاش! پاکستانی کپتان نے عمران خان کے یہ مشورے مانے ہوتے 

پی ٹی آئی میں اختلافات: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور علی امین گنڈاپور آمنے سامنے، وجہ کیا ہے؟

افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کا مؤثر جواب، خیبرپختونخوا کے عوام کا افواجِ پاکستان سے اظہارِ یکجہتی

افغان طالبان کی جارحیت ناقابل برداشت، مسلح افواج نے منہ توڑ جواب دیا، محسن نقوی

ویڈیو

آپریشن غضب للحق: افغان طالبان کے 133 کارندے ہلاک، فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں میں بڑے اہداف تباہ

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

پاکستان کیخلاف مودی، افغان اور نیتن یاہو کی ممکنہ سازش، قصور سانحہ، عمران ریاض بمقابلہ شاہد آفریدی

کالم / تجزیہ

کاش! پاکستانی کپتان نے عمران خان کے یہ مشورے مانے ہوتے 

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟