اس رمضان ہم اس اہم سوال پر غور کریں گے کہ کہاں خود کو کنٹرول کرنا ہے اور کہاں کنٹرول چھوڑنا ہے؟ اسلام ہمیں تقویٰ سکھاتا ہے یعنی اپنی نیت اور اعمال کو حدود میں رکھنا، مگر مسئلہ تب شروع ہوتا ہے جب انسان ہر چیز کو کنٹرول کرنا چاہتا ہے۔ لوگوں کا رویہ، اپنا مستقبل اور ہر نتیجہ۔ یہی خاموش جدوجہد اکثر اینزائٹی کی شکل اختیار کر لیتی ہے، کیونکہ دماغ غیر یقینی مستقبل کو خطرہ سمجھ کر اوورتھنکنگ اور خوف پیدا کرتا ہے۔ یہاں اسلام ہمیں ایک خوبصورت حل دیتا ہے ’توکل‘۔ توکل کا مطلب کوشش چھوڑنا نہیں بلکہ اپنی پوری محنت کے بعد نتیجہ اللہ کے سپرد کرنا ہے۔ جب انسان دل سے کہتا ہے کہ ’یا اللہ میں نے اپنا بہترین کیا، اب جو ہوگا آپ کی مرضی‘، تو ذہن کو سکون ملتا ہے کیوںکہ معاملہ اللہ کے سپرد ہوجاتا ہے۔ چاہے امتحان ہو، کیریئر ہو یا زندگی کا کوئی بھی مرحلہ، توکل ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہر انسان کا وقت اور رزق مختلف ہے۔ اس رمضان ایک سادہ عمل اپنائیں کہ جو کچھ آپ کے اختیار میں ہے اس پر محنت کریں، جو نہیں اس کو اللہ کے حوالے کر دیں، کیونکہ سکون ہر چیز کو قابو کرنے میں نہیں بلکہ اللہ پر بھروسا کرنے میں ہے۔ مزید جانیے اس ویڈیو:













