قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے طور پر محمود خان اچکزئی کی تقرری کو وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: تحریک تحفظ آئین پاکستان کا ملک گیر احتجاج، محمود خان اچکزئی منظرِ سے غائب
درخواست اکبر ایس بابر کی جانب سے دائر کی گئی ہے جو شوکت عزیز صدیقی کے ذریعے عدالت میں جمع کرائی گئی۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ محمود خان اچکزئی کی بطور اپوزیشن لیڈر تقرری کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا جائے۔
مزید استدعا کی گئی ہے کہ کیس کے حتمی فیصلے تک مذکورہ نوٹیفکیشن کو معطل کیا جائے۔
مزید پڑھیے: 8 فروری کو زبردست احتجاج ہوگا، پردہ دار خواتین اور بچوں پر ظلم ہو رہا ہے: محمود خان اچکزئی
درخواست گزار کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی کو یہ جانچنا چاہیے تھا کہ اپوزیشن لیڈر کی نامزدگی آزادانہ اور شفاف طریقے سے عمل میں آئی یا نہیں۔ درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ تقرری کے عمل میں قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔
عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ معاملے کی مکمل جانچ پڑتال کے بعد مناسب حکم جاری کیا جائے۔
درخواست کے اہم نکات
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے طور پر محمود خان اچکزئی کی تقرری کے خلاف دائر درخواست میں مزید اہم نکات شامل کر دیے گئے ہیں۔
درخواست گزار اکبر ایس بابر نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی رکن ہیں اور گزشتہ چار دہائیوں سے آئین کی بالادستی کے لیے کوشاں ہیں۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی رول 39(3) کے تحت ارکان کے دستخطوں کی آزادانہ تصدیق کرنے میں ناکام رہے۔ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ریکارڈ پر کوئی ثبوت موجود نہیں کہ آزاد ارکان نے عامر ڈوگر کو اپنی نمائندگی کا کوئی باقاعدہ اختیار دیا ہو۔
مزید پڑھیں: محمود خان اچکزئی نئے اپوزیشن لیڈر، نیا میثاق جمہوریت ہو گا؟
درخواست میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ کیا کوئی سزا یافتہ اور نااہل شخص جیل سے بیٹھ کر پارلیمانی عمل کو کنٹرول کر سکتا ہے؟
مزید کہا گیا ہے کہ ماضی میں استعفوں کی تصدیق کے لیے اسپیکر ارکان کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے رہے ہیں، تاہم اس بار اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے مقررہ طریقہ کار کو نظر انداز کیا گیا۔
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ قائد حزب اختلاف کا عہدہ جوڈیشل کمیشن اور الیکشن کمیشن کی اہم تقرریوں میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے، لہٰذا دستخطوں کی تصدیق کے بغیر جاری کردہ نوٹیفکیشن محض غلطی نہیں بلکہ آئین کی خلاف ورزی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: کیا محمود خان اچکزئی کے اچھے تعلقات عمران خان کی رہائی کا سبب بن پائیں گے؟
عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ معاملے کی مکمل جانچ پڑتال کر کے آئینی تقاضوں کے مطابق فیصلہ صادر کیا جائے۔












