امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہونے کے باعث خطہ جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے، ایک طرف صدر ٹرمپ نے تہران کو سخت کارروائی کی دھمکی دی ہے تو دوسری جانب ایران نے بھی واضح کیا ہے کہ ہم سرینڈر نہیں کریں گے۔
پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیاکہ ایران سرینڈر کا مطلب نہیں جانتا، اور اپنی سرزمین کی کسی بھی خلاف ورزی کو ہرگز قبول نہیں کرے گا۔
مزید پڑھیں: ایران امریکا کشیدگی: بھارت کی اپنے شہریوں کو تہران چھوڑنے کی ہدایت
ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی قسم کی جارحیت کی گئی تو ایران اپنے حقِ دفاع کو استعمال کرتے ہوئے بھرپور ردعمل دے گا۔
انہوں نے مزید کہاکہ طویل اور غیر نتیجہ خیز مذاکرات ایران کے مفاد میں نہیں، اور کسی بھی ممکنہ جوہری معاہدے میں قومی مفادات بنیادی شرط ہوں گے۔
ترجمان کے مطابق خطے میں یورپی افواج کی موجودگی کو دہشتگردی کے تناظر میں دیکھا جائے گا جبکہ امریکا کی جانب سے محدود نوعیت کی کارروائی بھی جارحیت تصور کی جائے گی۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکا کے ساتھ رابطوں کے حوالے سے نسبتاً مثبت اشاروں کا ذکر کیا ہے۔
سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر جاری بیان میں ان کا کہنا تھا کہ حالیہ بات چیت میں عملی تجاویز زیرِ غور آئیں اور کچھ حوصلہ افزا پیش رفت بھی سامنے آئی ہے۔
صدر کے مطابق ایران خطے میں امن اور استحکام کے لیے سنجیدہ ہے، تاہم امریکا کے اقدامات پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری تیاری مکمل کر لی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران امریکا کشیدگی، برطانیہ کا قطر میں ٹائفون جنگی طیارے تعینات کرنے کا فیصلہ
واضح رہے کہ امریکا ایران کے جوہری پروگرام کا مکمل خاتمہ چاہتا ہے، جبکہ تہران کی جانب سے اس سے مسلسل انکار کیا جارہا ہے۔ اس سے قبل گزشتہ برس بھی امریکی لڑاکا طیاروں نے ایران کی جوہری سائٹس پر بمباری کی تھی۔












