بنگلہ دیش کے وزیر داخلہ صلاح الدین احمد نے کہا ہے کہ کسی بھی فرد یا گروہ کو پولیس کی کارروائیوں میں غیر قانونی مداخلت یا رکاوٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش: لیفٹیننٹ جنرل مشفیق الرحمان نے بطور پرنسپل اسٹاف آفیسر عہدے کا چارج سنبھال لیا
بنگلہ دیش سیکریٹریٹ میں وزارتِ داخلہ کے ماتحت محکموں اور اداروں کے سربراہان کے ساتھ اجلاس کے بعد صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پولیس کے قانونی فرائض کی انجام دہی میں کوئی سیاسی دباؤ یا مداخلت نہیں ہونی چاہیے تاہم فورس کے اندر شفافیت اور جوابدہی کو بھی مضبوط بنایا جائے گا تاکہ عوام کو ہراسانی سے بچایا جا سکے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کمانڈ چین برقرار رکھیں۔
حالیہ قبل از انتخاب تقرریوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے سپرنٹنڈنٹس آف پولیس (ایس پیز) اور افسران انچارج (او سیز) کی قرعہ اندازی کے ذریعے تعیناتیوں پر تنقید کی اور کہا کہ بعض افسران کو ان کے سروس ریکارڈ سے مطابقت نہ رکھنے والے عہدوں پر تعینات کیا گیا۔ انہوں نے قرعہ اندازی کے نظام کی شفافیت پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ آئندہ تقرریوں میں میرٹ اور اہلیت کو ترجیح دی جائے گی۔
صلاح الدین احمد نے کہا کہ ایس پیز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ سیاسی بنیادوں پر قواعد سے ہٹ کر پروٹوکول مراعات نہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری اولین ترجیح قانون نافذ کرنے والے اداروں کو عوامی توقعات کے مطابق چلانا ہے۔
مزید پڑھیے: بنگلہ دیش میں بڑے پیمانے پر انتظامی ردوبدل کا آغاز، فوج اور سول بیوروکریسی میں اہم تبدیلیاں
وزیر داخلہ نے خالی آسامیوں کو پر کرنے کے لیے 2,701 پولیس کانسٹیبلز کی فوری بھرتی کی ہدایات بھی جاری کرنے کا اعلان کیا۔
5 اگست 2024 کے بعد درج مقدمات کے حوالے سے انہوں نے الزام لگایا کہ موقع پرست عناصر نے بہت سے بے گناہ شہریوں کو مقدمات میں ملوث کیا جس سے انہیں غیر ضروری مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ پولیس کو ایسے مقدمات کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ نے کہا کہ بی ڈی آر بغاوت میں ہونے والی ہلاکتوں کا ازسرِ نو اور مکمل جائزہ لینے کے لیے ایک نیا کمیشن تشکیل دیا جائے گا اور کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں انصاف کو یقینی بنایا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ یہ وعدہ حکومت کے انتخابی منشور کا حصہ تھا۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں انتقال اقتدار کا مرحلہ مکمل، قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس طلب
انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ سابقہ حکومت کے دور میں جاری کیے گئے اسلحہ لائسنسوں کی دوبارہ تصدیق کی جائے گی۔ جو لائسنس غیر مناسب طریقہ کار یا سیاسی بنیادوں پر جاری کیے گئے ہوں گے انہیں منسوخ کر دیا جائے گا اور ان کے تحت رکھا گیا اسلحہ بھی ضبط کیا جائے گا۔
پاسپورٹ خدمات کے حوالے سے وزیر داخلہ نے عوامی شکایات کا اعتراف کیا۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے شہری آن لائن پاسپورٹ درخواست کے طریقہ کار سے ناواقف ہیں اور اکثر پاسپورٹ دفاتر کے قریب موجود درمیانی افراد پر انحصار کرتے ہیں جس سے استحصال اور ملی بھگت کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔ اس مسئلے کے حل کے لیے حکومت ایسے سروس فراہم کنندگان کو باضابطہ فریم ورک کے تحت رجسٹر کرنے پر غور کر رہی ہے جیسا کہ رجسٹری دفاتر میں ڈیڈ رائٹرز کا نظام ہے، جہاں مقررہ فیس اور جوابدہی کا نظام موجود ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں ڈھاکا اور دیگر ڈویژنل شہروں میں پائلٹ پروگرام شروع کیا جا سکتا ہے، جس کے بعد اسے ملک بھر میں نافذ کیا جائے گا۔
سنہ2006 میں سب انسپکٹرز (ایس آئیز) کی مبینہ طور پر روکی گئی بھرتیوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ پہلے چیف ایڈوائزر کے دفتر کو بھیجا گیا تھا لیکن اس وقت منظوری نہیں مل سکی۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی تحقیقات کر کے عدالتی ہدایات کے مطابق حل کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش پولیس چیف کا نوٹس، انتہا پسندی، بھتہ خوری اور منشیات کے خلاف کریک ڈاؤن
اجلاس میں قائم مقام سیکریٹری داخلہ ایم ڈی دلور حسین اور متعلقہ اداروں کے سربراہان بھی موجود تھے۔













