تحریک تحفظ آئین پاکستان نے سابق وزیراعظم اور بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے طبی معائنے کے حوالے سے ہونے والے حالیہ اقدامات کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
تحریک کے بیان کے مطابق عمران خان کا رات کے اندھیرے میں، خاندان اور ذاتی معالجین کی موجودگی کے بغیر طبی معائنہ اور پروسیجر کیا گیا، جو نہ صرف غیر شفاف تھا بلکہ ایک سابق وزیراعظم کے بنیادی انسانی اور قانونی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: میڈیکل ٹیم کا دورہ اڈیالہ جیل، عمران خان کی آنکھوں کے علاج پر اطمینان کا اظہار
بیان میں کہا گیا کہ کسی بھی زیرِ حراست شخص کو، خصوصاً سابق منتخب وزیراعظم کو یہ حق حاصل ہے کہ اُن کے طبی معائنے اور علاج کے دوران اہلِ خانہ اور معتمد ذاتی ڈاکٹرز موجود ہوں، تاکہ شفافیت، اعتماد اور درست طبی نگرانی کو یقینی بنایا جا سکے۔
تحریک نے واضح کیا کہ اس عمل سے قبل قیادت کو اعتماد میں نہیں لیا گیا اور نہ ہی کسی پیشگی اطلاع دی گئی۔ تحریک کے مرکزی رہنما، بشمول محمود خان اچکزئی، اس اقدام سے لاعلم تھے۔
یہ بھی پڑھیے: عمران خان کو اینٹی وی ای جی ایف کا دوسرا انجیکشن بھی لگا دیا گیا، پمز نے تصدیق کردی
تحریک تحفظ آئین پاکستان نے مطالبہ کیا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کا علاج فوری طور پر شفا انٹرنیشنل اسپتال، اسلام آباد میں اُن کے ذاتی معالجین اور خاندان کی موجودگی میں کیا جائے تاکہ صحت کے تمام خدشات دور ہوں اور مکمل شفافیت قائم رہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اس غیر ذمہ دارانہ عمل کی فوری وضاحت ضروری ہے اور آئندہ ایسے اقدامات کے دوران قانونی تقاضوں اور بنیادی حقوق کی مکمل پاسداری کو یقینی بنایا جائے۔












