سعودی عرب کے شمالی میں واقع تاریخی شخصیت حاتم طائی کے شہر حائل میں رمضان کے دوران مدافا یا مہمان خانے تمام عمر کے لوگوں اور ہر طرح کے مہمانوں کو عشاء کی نماز کے بعد خوش آمدید کہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب: بار بار دیکھنے کی ہوس
کئی مہمان بلا دعوت بھی آتے ہیں مگر انہیں معلوم ہوتا ہے کہ میزبان کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں۔
حائل کی تاریخی اور روایتی اہمیت
حائل شہر کئی مشہور مدافا کے لیے جانا جاتا ہے اور یہ حاتم طائی کا آبائی شہر ہے جنہیں عرب دنیا میں سخاوت کی علامت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
ان میں سب سے نمایاں مدافا النعام اور العبیدہ کے ہیں۔
مدافا کا مرکزی دروازہ عام دنوں میں بڑا اور کھلا رہتا ہے مگر رمضان میں یہ مغرب کی نماز سے قبل کھلتا ہے اور فجر کی نماز تک کھلا رہتا ہے۔
مہمان نوازی اور تیاریاں
سپروائزر محمد النعام نے بتایا کہ انہوں نے رمضان کے دوران مہمانوں کے استقبال کے لیے خصوصی تیاریاں کی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ مدافا میں نرم روشنی، قرآن اور ذکر کے لیے ایک مخصوص کونا بنایا گیا ہے تاکہ مہمان کو سکون اور راحت فراہم کی جا سکے اور رمضان کی منفرد فضا قائم رہے۔
انہوں نے کہا کہ مدافا سب کے لیے کھلا رہ کر یکجہتی اور بھائی چارے کو فروغ دیتا ہے اور لوگوں کو عطیہ دینے، ضرورت مندوں کی مدد کرنے یا اجتماعی خیراتی اقدامات اپنانے کی ترغیب دیتا ہے۔
رمضان کے دوران روایتی تقریبات
رمضان کے دوران یہاں گروپ افطار ڈنر، مہمان مقررین کے لیکچرز، نماز اور مختلف خیراتی سرگرمیاں منعقد کی جاتی ہیں۔
موسم خوشگوار ہونے پر مہمان صحن میں لکڑی کی کرسیاں اور روایتی کپڑوں سے مزین نشستوں پر آگ کے گرد بیٹھتے ہیں۔ سخت سرد یا گرم موسم میں مہمان شاندار طریقے سے سجے ہوئے بڑے خیمے میں فرش کے کشن پر بیٹھتے ہیں۔
مہمان نوازی اور روایت
مہمان عموماً ایک یا 2 کھجور کھاتے ہیں، پھر کافی پیش کی جاتی ہے۔
کافی کا انکار کرنا بد تمیزی سمجھا جاتا ہے اور صرف ایک کپ (3 گھونٹ پر مشتمل) پینا بھی معاشرتی طور پر قابل قبول نہیں۔ مہمان کم از کم 2 کپ پیتا ہے اور آخر میں کپ ہلا کر اشارہ کرتا ہے کہ کافی پی لی گئی ہے۔
اگر مہمان میزبان خاندان کے لیے اجنبی ہو تو میزبان زور دیتا ہے کہ مزید کافی پییں اور مہمان انتخاب کر سکتا ہے کہ وہ قبول کرے یا نہ کرے۔ کافی بنانے والا پھر اپنی مخصوص جگہ پر واپس چلا جاتا ہے جہاں کئی کافی کے برتن، چائے کے برتن اور کم از کم ایک پلیٹ کھجور رکھی ہوتی ہے۔
دیواریں عموماً میزبان کے بزرگوں کی تصویروں سے سجی ہوتی ہیں اور ہال میں حائل کی مقامی ثقافت کے مطابق آرائشی نمونے ہوتے ہیں۔ مہمان خاص طور پر اجنبی کو آرام دہ بیٹھنے کے لیے مارکا یا بازو کی آرام گاہ کے پاس بٹھایا جاتا ہے۔
گفتگو اور روحانی ماحول
رمضان میں گفتگو عام طور پر روحانی موضوعات، خیرات، صبر کی کہانیاں اور غریب، محتاج اور قرض دار افراد کے لیے فکر کے گرد گھومتی ہے جس سے مہمان نوازی اور بھائی چارے کا حقیقی جذبہ نمایاں ہوتا ہے۔
حاتم الطائی عرب دنیا میں سخاوت اور مہمان نوازی کی علامت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ وہ آج کے سعودی عرب کے شمالی علاقے حائل کے حکمران تھے اور اپنی فراخ دلی، دوسروں کی مدد اور کسی بھی مہمان کو بلا تفریق خوش آمدید کہنے کے لیے مشہور تھے۔ ان کی کہانیاں اور اقوال صدیوں سے عرب روایت اور ادب کا حصہ رہی ہیں، اور ان کا نام آج بھی سخاوت کی مترادف سمجھا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ حاتم طائی کا کردار نہ صرف اخلاقی اور سماجی اصولوں کی نمائندگی کرتا ہے بلکہ ان کی مثال آج بھی لوگوں کو دوسروں کی مدد کرنے، مہمان نوازی کو فروغ دینے اور کمیونٹی کے لیے خیرات کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ رمضان کے دوران حائل کے مدافا میں مہمانوں کو کھلے دل سے خوش آمدید کہنا اسی روایت کی زندہ تصویر ہے جسے حاتم طائی کی یاد اور ان کے جذبہ سخاوت سے جوڑا جاتا ہے۔














