امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے سائے مزید گہرے ہو گئے ہیں، کیونکہ دنیا کا سب سے بڑا امریکی جنگی بحری جہاز جیرالڈ فورڈ بحیرہ روم میں یونانی جزیرے کریٹ میں امریکی اڈے پر پہنچ گیا ہے، جبکہ اس کی جبرالٹر کے قریب نقل و حرکت کی فوٹیج بھی منظرِ عام پر آئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی جنگی جہازوں پر مشتمل بحری بیڑا مشرق وسطیٰ پہنچ گیا، ایران کا واشنگٹن کو انتباہ
رپورٹس کے مطابق، جیرالڈ فورڈ میں درجنوں جدید لڑاکا طیارے اور ہیلی کاپٹر تعینات ہیں، جو کسی بھی ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ جبرالٹر کے قریب اس کی سرگرمیوں کی ویڈیوز کے سامنے آنے کے بعد خطے میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
ادھر امریکی بحری بیڑا ابراہم لنکن بھی مشرقِ وسطیٰ میں موجود ہے، جس سے خطے میں امریکی عسکری موجودگی مزید مضبوط ہو گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں مجموعی طور پر 13 امریکی جنگی بحری جہاز تعینات ہیں، جن میں 9 ڈیسٹرائر اور 3 ساحلی لڑاکا جہاز شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کے خلاف بڑے امریکی آپریشن کی تیاری کا انکشاف، خطرات اور جوابی ردعمل کے امکانات بڑھ گئے
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ غیر معمولی عسکری نقل و حرکت خطے میں ممکنہ کشیدگی کے پیشِ نظر کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب، پرتگال کے جزیرے تریسیرا پر واقع امریکی لاجیس ائربیس پر بھی امریکی فوجی طیاروں کی آمد و رفت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ امریکا مشرقِ وسطیٰ میں اپنی عسکری حکمتِ عملی کو مزید فعال بنا رہا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف محدود حملوں پر غور کرنے کا کہا تھا اور ایران کو معاہدہ کرنے کے لیے 10 سے 12 دن کی ڈیڈلائن دی تھی، جس کے بعد پرتگال میں امریکی فضائی اڈوں پر طیاروں نے اپنی پوزیشن سنبھال لی ہے۔













