چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ بانی چیئرمین عمران خان کے اہلِ خانہ خصوصاً ان کی بہنوں اور اہلیہ کے خلاف کسی قسم کی تنقید یا بیان بازی قابل قبول نہیں، عمران خان سے ملاقاتیں پیچیدگیاں ختم کریں گی، اس لیے حکومت معاملات کو آگے بڑھائے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے، شاندانہ گلزار کا علیمہ خان کے انٹرویو پر سخت ردعمل
ان کے مطابق عمران خان کی بہنیں تنقید نہیں بلکہ غلطیوں کی نشاندہی کرتی ہیں اور یہ ان کا حق ہے تاہم پارٹی قائدین کو چاہیے کہ وہ اس پر عوامی سطح پر جواب نہ دیں۔
وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی ایک جمہوری جماعت ہے کوئی کنگ پارٹی نہیں اور اس میں آمریت کی کوئی گنجائش نہیں۔
اختلافِ رائے پارٹی فورمز تک محدود رہے
انہوں نے کہا کہ پارٹی میں ہر فرد کو اظہار رائے کا حق حاصل ہے تاہم اختلاف رائے کو پارٹی کے اندرونی فورمز تک محدود رکھا جانا چاہیے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ میڈیا یا عوامی سطح پر ایک دوسرے پر تنقید سے گریز ضروری ہے کیونکہ پارٹی ڈسپلن نہایت اہم ہے۔
مزید پڑھیے: علیمہ خان کب کب عمران خان کی رہائی میں رکاوٹ بنیں؟
انہوں نے مزید کہا کہ اگر اصلاح کی نیت سے کوئی بات کرنی ہو تو وہ اندرونی پلیٹ فارم پر کی جائے نہ کہ عوامی سطح پر۔
عمران خان کی اسپتال منتقلی پر شفافیت کا سوال
بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ عمران خان کو حال ہی میں رات گئے اسپتال منتقل کیا گیا مگر پارٹی قیادت کو پیشگی اطلاع نہیں دی گئی۔
مزید پڑھیں: علیمہ خان کے معاملے پر پی ٹی آئی تقسیم، کون سا رہنما ان کے حق میں اور کون مخالف؟
ان کے بقول حکومت عمومی رپورٹس فراہم کرتی رہی ہے اور ڈاکٹروں نے علاج کے شیڈول سے بھی آگاہ کیا تھا تاہم اس مخصوص منتقلی کے وقت اور مقام سے متعلق پہلے کوئی بریفنگ نہیں دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ علاج مکمل ہونے کے بعد آگاہ کیا گیا مگر شفافیت کا فقدان تشویش کا باعث ہے۔
ملاقاتوں کی معطلی بحران کا حل نہیں
چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ عمران خان سے ملاقاتوں کو روکنا کسی مسئلے کا حل نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر ملاقاتیں باقاعدگی سے ہوتیں تو موجودہ سیاسی بحران اس شدت تک نہ پہنچتا۔
ان کے مطابق ملک کا سب سے بڑا بحران عمران خان کو جیل میں رکھنا ہے اور اگر ملاقاتوں کی اجازت دی جائے تو کئی پیچیدگیاں خود بخود ختم ہو سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: پی ٹی آئی کی آن بان شان سمجھے جانے والے علی امین گنڈاپور کی مقبولیت میں کمی کیوں آئی؟
انہوں نے کہا کہ ملاقاتوں سے صحت اور علاج سے متعلق درست معلومات ملتی ہیں، جس سے افواہوں کا خاتمہ ہوتا ہے۔
اسٹریٹ موومنٹ اور قانونی آپشنز
بیرسٹر گوہر کے مطابق اسٹریٹ موومنٹ سے متعلق عمران خان نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو ذمے داریاں سونپی ہیں اور وہ اپنی صوابدید پر اعلانات کرتے ہیں۔
رہائی فورس (امن فورس) کا قیام
انہوں نے بتایا کہ عمران خان رہائی فورس کے قیام کے لیے مختلف قانونی آپشنز زیر غور ہیں اور پارٹی قیادت کے درمیان مشاورت جاری ہے تاکہ اس اقدام سے مستقبل میں عمران خان کے کیسز پر کوئی منفی اثر نہ پڑے۔ ان کے مطابق پارٹی کا ہر قدم آئین اور قانون کے دائرے میں ہوگا۔
پارٹی رہنماؤں کے سخت بیانات پر ردعمل
بعض پارٹی رہنماؤں کے سخت بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ ایسے بیانات مذاکرات میں رکاوٹ بنتے ہیں۔
مزید پڑھیں: محمود اچکزئی کے پاس اختیارات نہیں، پارٹی میں حکم علیمہ خان کا چلتا ہے، زاہد خان
ان کے مطابق حکومت کو محاذ آرائی کے بجائے سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
’ بشریٰ بی بی کے خلاف مقدمات چلانے میں تاخیر کیوں‘
انہوں نے سوال اٹھایا کہ بشریٰ بی بی کے خلاف مقدمات میں ڈھائی سال سے تاخیر کیوں کی جا رہی ہے اور کہا کہ سیاسی شخصیات کو بروقت انصاف ملنا چاہیے تاکہ ملک آگے بڑھ سکے۔
’ملاقات سے متعلق کوئی واضح اشارہ نہیں‘
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ فی الحال اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کے حوالے سے کوئی واضح اشارہ نہیں ملا۔
مزید پڑھیے: مذاکرات کے دروازے بند، پی ٹی آئی مکمل سیاسی تنہائی کا شکار ہو گئی؟
انہوں نے کہ کہ عمران خان سے فوری طور پر ملاقات کا امکان دکھائی نہیں دیتا اور حکومت کے رویے سے بھی واضح اندازہ نہیں ہو رہا کہ اجازت دی جائے گی یا نہیں۔











