پاکستان نے کہا ہے کہ اس نے بارہا ہونے والے سرحد پار دہشتگرد حملوں کے بعد افغان سرزمین سے سرگرم دہشتگردوں کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر مبنی درست کارروائیاں کی ہیں۔
سرکاری مؤقف کے مطابق ان کارروائیوں میں صرف تصدیق شدہ دہشتگرد ٹھکانوں اور سہولت کاری کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔
مزید پڑھیں: افغانستان کے کن علاقوں میں کالعدم ٹی ٹی پی کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں؟
بیان میں کہا گیا کہ جان بوجھ کر شہری آبادی کو نشانہ بنانے کے الزامات زمینی حقائق کے منافی ہیں اور اصل مسئلہ یعنی سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہیں۔
پاکستان نے مؤقف اختیار کیاکہ افغان طالبان حکام اپنے زیرِ کنٹرول علاقوں میں سرگرم دہشتگرد ڈھانچے کو ختم کرنے میں ناکام رہے ہیں، جس کے باعث افغان سرزمین ہمسایہ ممالک کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔
بیان میں متعدد اقوام متحدہ کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ان میں بھی افغان سرزمین کے دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے کا ذکر موجود ہے۔
حکام کے مطابق تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور اس سے منسلک گروہوں کے خلاف کارروائی نہ کرنا یا عدم صلاحیت کا مظاہرہ کرنا حکمرانی کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے اور اس عزم کو کمزور کرتا ہے کہ کسی ملک کی سرزمین دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ دہشتگرد گروہوں کا شہری علاقوں میں پناہ لینا اور مذہبی مقامات کا غلط استعمال کرنا اس سیکیورٹی ماحول کا براہِ راست نتیجہ ہے جو طالبان کی عدم کارروائی کے باعث پیدا ہوا۔
پاکستان نے خبردار کیاکہ کشیدگی میں اضافے اور کسی بھی ممکنہ عدم استحکام کی ذمہ داری طالبان حکومت پر عائد ہوتی ہے، جو علاقائی انتباہات کے باوجود دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خاتمے میں ناکام رہی ہے۔












