معروف عالمِ دین، اسلامی نظریاتی کونسل کے رُکن علامہ ضیا اللہ شاہ بخاری نے وی نیوز کے پروگرام اسلام دینِ امن میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جس طرح سے پاکستان کام کر رہا ہے یہ نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی امن کی خدمت ہے۔ جہاں ایک طرف پاک فوج دہشتگردی کے ناسور کے خاتمے کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہی ہے وہیں علمائے حق نظریاتی محاذ پر اپنا بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔
پیغام پاکستان دہشتگردی کے خلاف بڑی دستاویز ہے
علامہ ضیا اللہ شاہ بخاری نے کہا کہ پیغام پاکستان دستاویز جو دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خلاف ہمارا قومی بیانیہ ہے اور اُس پر پہلے ہی روز 1800 سے زائد علماء نے دستخط کیے۔ یہ ایک ایسی دستاویز ہے جس سے دنیا بھر کے علماء متاثر ہوئے۔ الازہر یونیورسٹی میں اس کا ترجمہ کرایا گیا۔
تمام خلیجی ممالک میں اس پیغام پاکستان کو خوش آمدید کہا گیا۔ میں خود کئی خلیجی ممالک میں اس کو لے کر گیا اور اُنہوں نے کہا کہ یہ عصرِ حاضر کی ضرورت ہے۔ تو اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارا نظریاتی محاذ بھی مکمل متحرک اور فعال ہے، اور علماء کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا ادراک اور احساس ہے۔
دہشتگردی کی روک تھام میں منبر و محراب کا کردار
اس بارے میں بات کرتے ہوئے علامہ ضیا اللہ شاہ بخاری کا کہنا تھا کہ جب ہم نے پیغام پاکستان دستاویز پر دستخط کیے تو اُسی وقت ہم نے پیغامِ منبر و محراب کے نام سے ایک ضابطہ اخلاق تشکیل دے کر کچھ نقاط اہلِ علم تک پہنچائے کیونکہ منبر و محراب سے جو آواز بلند ہوتی ہے عوام اُس پر بہت اعتماد کرتے ہیں۔ آج بھی منبر و محراب پر لوگوں کا اعتماد قائم ہے اور وہاں سے دہشتگردی کی مذمت بہت اہمیت رکھتی ہے۔
اسلام اور دہشتگردی کے تعلق سے متعلق نظریاتی غلط فہمیوں کا تدارک کیونکر ممکن ہے؟
اس سوال کے جواب میں علامہ ضیاء اللہ شاہ بخاری نے کہا کہ اسلام تو نام ہی سلامتی کا ہے اور اس میں تمام انسانوں کے ساتھ نرم رویے کی تلقین ہے اور انسانی احترام میں اسلام مذہبی طور پر کوئی فرق روا نہیں رکھتا۔ اسلام کو دہشتگردی کے ساتھ جوڑنا انتہا درجے کی بددیانتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام کا دہشتگردی اور دہشتگردی کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ یہ لوگوں سے محبت کرنے کا، اُنہیں جوڑنے کا دین ہے۔ یہ تو غیروں کی خواتین اور بچوں کے احترام کا درس دیتا ہے۔
خودکش بمبار کی تیاری پہلا مرحلہ تکفیر سے شروع ہوتا ہے
علامہ ضیا اللہ شاہ بخاری نے کہا کہ خودکش بمبار زیادہ تر سادہ لوح نوجوان ہوتے ہیں۔ جو لوگ ان کی ذہن سازی کرتے ہیں اُن میں سب سے پہلے تکفیر کرتے ہیں کہ تمہارا ہدف ٹھیک مسلمان نہیں ہیں، ان کے اندر ایمان موجود نہیں ہے، یہ کفر کا ارتکاب کر چُکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ خودکش بمبار کی ذہن سازی کرنے والے عناصر انہیں سب سے پہلے تکفیر اور اُس کے بعد ریاست سے بغاوت کا درس دیتے ہیں، اُس کے بعد قرآنِ پاک کی آیات کے غلط مفاہیم اور معانی پیش کرتے ہیں اور یہی خارجیوں کی سب سے بڑی نشانی ہے۔ ان باتوں کا تدارک اس طرح سے ہو سکتا ہے کہ اسلام کے درست تصورات کو فروغ دیا جائے۔











