19 فروری کو واشنگٹن ڈی سی میں امریکی قیادت میں منعقد ہونے والا بورڈ آف پیس کا اجلاس غزہ جنگ کے بعد پیدا ہونے والے پیچیدہ سیاسی، سکیورٹی اور انسانی بحران کے تناظر میں ایک اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اس اجلاس کا بنیادی مقصد نہ صرف جنگ کے بعد کے انتظامی ڈھانچے پر غور کرنا تھا بلکہ ایک ایسے بین الاقوامی فریم ورک کی تشکیل بھی تھا جو تعمیرِ نو، سکیورٹی استحکام اور عبوری حکمرانی کے معاملات کو مربوط انداز میں آگے بڑھا سکے۔
اجلاس میں مختلف خطوں کے ممالک، سفارتی نمائندوں اور پالیسی ماہرین نے شرکت کی اور غزہ کے مستقبل کے حوالے سے متعدد تجاویز اور روڈمیپس زیرِ بحث آئے۔ بین الاقوامی سفارتی حلقوں کے مطابق یہ اجلاس دراصل ایک ’پوسٹ کنفلکٹ گورننس ماڈل‘ پر ابتدائی اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی کوشش تھا، جس میں سکیورٹی، گورننس اور معاشی بحالی کو بیک وقت آگے بڑھانے کا تصور پیش کیا گیا۔
غزہ کی تعمیرِ نو: مالیاتی اور معاشی حکمت عملی
اجلاس میں غزہ کی پٹی کی تعمیرِ نو کو مرکزی حیثیت حاصل رہی۔ شرکا نے بنیادی انفراسٹرکچر، رہائشی منصوبوں، صحت کے نظام اور توانائی کے شعبے کی بحالی کے لیے کثیر ملکی فنڈ قائم کرنے پر غور کیا۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق غزہ کی بحالی کے لیے صرف مالی وسائل ہی نہیں بلکہ شفاف مالیاتی نگرانی کا نظام بھی ضروری ہوگا تاکہ فنڈز کے مؤثر استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔ اسی لیے ایک بین الاقوامی مالیاتی نگران ڈھانچے کی تجویز بھی سامنے آئی۔
سکیورٹی انتظام اور اسٹیبلائزیشن فورس
19 فروری کو ہونے والے اجلاس کا ایک اہم پہلو غزہ میں ممکنہ سکیورٹی خلا کو پر کرنے کے لیے بین الاقوامی اسٹیبلائزیشن فورس کا تصور تھا۔ اس فورس کا بنیادی مقصد جنگ بندی کے بعد امن و امان برقرار رکھنا، انسانی امداد کی محفوظ ترسیل یقینی بنانا اور مقامی سکیورٹی اداروں کی تشکیل میں مدد فراہم کرنا بتایا گیا۔ پالیسی حلقوں کے مطابق یہ ماڈل ماضی میں دیگر تنازعات کے بعد استعمال ہونے والے امن مشنز سے متاثر ہے، تاہم اس کی کامیابی کا انحصار مقامی سیاسی قبولیت اور واضح مینڈیٹ پر ہوگا۔
عبوری انتظامیہ اور گورننس ماڈل
اجلاس میں غزہ کے لیے ایک ٹیکنوکریٹ عبوری انتظامیہ کے قیام پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اس انتظامیہ کا مقصد بنیادی سول انتظام چلانا، انسانی امداد کی نگرانی کرنا اور تعمیرِ نو پروگراموں کی شفاف عملداری کو یقینی بنانا ہوگا۔ ماہرین کے مطابق اس طرح کا ماڈل سیاسی دھڑوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے، تاہم اس کے لیے مقامی نمائندگی اور شمولیت کو یقینی بنانا ضروری ہوگا۔
پاکستان کا کردار: محتاط سفارتی توازن
پاکستان نے اس اجلاس میں کوئی بڑا اعلان نہیں کیا، لیکن سفارتی سطح پر دلچسپی برقرار رکھی۔ پاکستان کی سفارتی ترجیح بظاہر یہ ہے کہ کسی بھی امن مشن یا انتظامی ڈھانچے کو اقوام متحدہ کے فریم ورک کے ساتھ ہم آہنگ رکھا جائے تاکہ اس کی قانونی حیثیت مضبوط رہے اور علاقائی حساسیت کو مدنظر رکھا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیے ’ایسے تو مسئلہ کشمیر بھی بورڈ آف پیس میں جا سکتا ہے‘، مودی سرکار پریشانی کا شکار
سفارتی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان ممکنہ طور پر انسانی امداد، سفارتی حمایت اور سیاسی مفاہمت کے اقدامات میں کردار ادا کر سکتا ہے، تاہم عسکری شمولیت کے حوالے سے فیصلہ ابھی قبل از وقت ہوگا۔
عالمی ردِعمل اور تنقیدی آوازیں
اجلاس کی قیادت اور اس کے سیاسی پس منظر، خصوصاً ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار کے باعث مختلف ممالک میں متضاد ردِعمل سامنے آیا۔ بعض یورپی اور علاقائی مبصرین نے اس فورم کی شفافیت، نمائندگی اور قانونی حیثیت پر سوالات اٹھائے ہیں۔ تنقید کرنے والوں کا مؤقف ہے کہ اگر اس عمل میں فلسطینی قیادت اور مقامی اسٹیک ہولڈرز کو مرکزی حیثیت نہ دی گئی تو کسی بھی منصوبے کی پائیداری متاثر ہو سکتی ہے۔
پاکستان کی شمولیت بارے عالمی مبصرین کی آراء
مائیکل کوگل مین
واشنگٹن ڈی سی میں ولسن سینٹر سے وابستہ ماہرِ جنوبی ایشیائی امور مائیکل کوگل مین نے ایک پالیسی ڈسکشن کے دوران تبصرہ کیا کہ پاکستان کی شرکت اس فورم کو مسلم دنیا میں زیادہ قابلِ قبول بنا سکتی ہے، کیونکہ اسلام آباد تاریخی طور پر فلسطین کے معاملے پر واضح مؤقف رکھتا ہے اور مغربی دارالحکومتوں کے ساتھ بھی کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ایچ اے ہیلیئر، مشرقِ وسطیٰ تجزیہ کار
جیو پولیٹیکل تجزیہ نگار اور مشرقِ وسطیٰ امور کے ماہر برطانوی ایچ اے ہیلیئر نے ایک ٹی وی انٹرویو میں رائے دی کہ شہباز شریف کی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان سفارتی سطح پر زیادہ فعال کردار ادا کرنا چاہتا ہے، خاص طور پر انسانی امداد اور سیاسی مفاہمت کے معاملات میں۔
عبدالخالق عبداللہ، خلیجی سیاسی مبصر
قطر یونیورسٹی کے پروفیسر، خلیجی اخبار کے کالم نویس اور سیاسی مبصر عبدالخالق عبداللہ نے ایک علاقائی پالیسی فورم میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا کردار اہم ہے کیونکہ یہ ایک بڑی مسلم طاقت ہے جو کسی بھی عبوری سیاسی انتظام کے لیے وسیع تر مسلم حمایت حاصل کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
رچرڈ گوان، اقوامِ متحدہ امور کے ماہر
انٹرنیشنل کرائسس گروپ میں 2019 سے 2025 تک ڈائریکٹر رہنے والے رچرڈ گوان نے ایک پالیسی بریفنگ میں تبصرہ کیا کہ اگر بورڈ آف پیس کو قانونی اور سفارتی ساکھ درکار ہے تو پاکستان جیسے ممالک کی شمولیت اسے زیادہ متوازن اور قابلِ قبول بنا سکتی ہے، خاص طور پر اگر یہ عمل اقوامِ متحدہ کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔
19 مسلم ممالک کا مشترکہ مؤقف
اجلاس کے سفارتی ماحول میں ایک اہم پیش رفت یہ بھی رہی کہ 19 مسلم ممالک کے گروپ نے مغربی کنارے میں اسرائیل کی آبادکاری اور قبضے کو بین الاقوامی قانون کے خلاف قرار دیتے ہوئے دو ریاستی حل پر زور دیا۔ مغربی کنارے میں آبادکاری عالمی قوانین اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے۔ فلسطینی علاقوں کی جغرافیائی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں امن عمل کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ دو ریاستی حل کے لیے مقبوضہ علاقوں میں یکطرفہ اقدامات روکنا ضروری ہے۔ یہ مؤقف زیادہ تر اسلامی ممالک کے مشترکہ سفارتی بیانیے سے ہم آہنگ سمجھا جا رہا ہے اور اس نے اجلاس کے سیاسی ماحول پر واضح اثر ڈالا۔
آگے کا منظرنامہ
سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ آنے والے مہینوں میں ورکنگ گروپس اور تکنیکی کمیٹیاں اس منصوبے کی تفصیلات طے کریں گی۔ اگر اس فورم کو وسیع عالمی حمایت حاصل ہو جاتی ہے تو یہ فورم غزہ کی بحالی کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہو سکتا ہے، بصورتِ دیگر یہ صرف ایک سفارتی کوشش تک محدود رہ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے غزہ بورڈ آف پیس میں سعودی عرب اور پاکستان کا کردار
واشنگٹن میں بورڈ آف پیس اجلاس غزہ کے بعد کے سیاسی اور انتظامی منظرنامے کے لیے ایک ابتدائی مگر اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم اس کے عملی نتائج کا دارومدار عالمی اتفاقِ رائے، مقامی شمولیت اور واضح قانونی فریم ورک پر ہوگا۔ پاکستان سمیت کئی ممالک محتاط انداز میں صورتِ حال کا جائزہ لے رہے ہیں اور آنے والے وقت میں ان کے کردار کا تعین عالمی سفارتی پیش رفت سے جڑا رہے گا۔












