روسی وزارت خارجہ نے انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں عالمی دہشتگرد نیٹ ورکس کی موجودگی سے خطے کی سیکیورٹی کو لاحق خطرات برقرار ہیں۔
مزید پڑھیں: افغانستان عالمی امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ بنتا جارہا ہے، ایمبیسیڈر مسعود خالد
بین الاقوامی نگرانی رپورٹس بشمول اقوام متحدہ، افغانستان میں القاعدہ اور متعلقہ دہشتگرد گروپس مختلف صوبوں میں تربیتی مراکز اور لاجسٹک نیٹ ورک چلا رہے ہیں، بشمول غزنی، لغمان، کنڑ، ننگرہار، نورستان، پروان اور اورزگان۔
روسی تجزیے کے مطابق افغانستان نے خطے میں القاعدہ کے لیے تربیتی اور ہم آہنگی کا مرکز بن کر ترقی کی ہے، جبکہ داعش نے مشرقی اور شمالی علاقوں میں اپنی پائیدار موجودگی قائم کی ہے اور وسطی ایشیا میں توسیع کے طویل المدتی ارادے رکھتا ہے۔
روسی وزارت خارجہ اور اقوام متحدہ کی رپورٹس نے مشترکہ طور پر طالبان حکومت پر کڑی تنقید کی ہے۔ ان کے مطابق طالبان کے زیرِ حکومت افغانستان میں دہشتگرد نیٹ ورکس کو روکا یا تحلیل نہیں کیا گیا، اور بار بار کیے گئے دعووں کے باوجود عملی اقدامات ناکافی ہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان کی افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائی، ممکنہ عدم استحکام کی ذمہ داری طالبان حکومت پر عائد
یہ تمام حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ افغانستان خطے میں مسلسل غیر یقینی صورتحال اور دہشتگردی کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے، اور طالبان کے دعوے کہ ملک میں استحکام ہے، بین الاقوامی تشخیص کے مطابق درست نہیں ہیں۔













