دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت چیٹ بوٹس کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے لیکن اب بھی یہ سوال برقرار ہے کہ آخر ان سے بات کرنے کا بہترین طریقہ کیا ہے؟ کیا ’پلیز‘ اور ’تھینک یو‘ کہنا واقعی بہتر جواب دلواتا ہے یا انہیں دھمکانا زیادہ مؤثر ہے؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان میں سے اکثر تصورات محض فسانے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت کے نئے قلعے: ہزاروں ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر جاری، لاگت کتنی؟
چند محققین نے یہ جانچنے کے لیے تجربہ کیا کہ کیا مثبت الفاظ استعمال کرنے سے چیٹ بوٹس زیادہ درست جواب دیتے ہیں۔ انہوں نے مختلف اے آئی ماڈلز کو ’اسمارٹ‘ کہہ کر مخاطب کیا اور حوصلہ افزائی کی حتیٰ کہ سوال کے آخر میں ’یہ مزہ آگیا‘ بھی لکھا مگر کوئی مستقل فرق سامنے نہ آیا۔
البتہ ایک حیران کن نتیجہ سامنے آیا۔ جب اے آئی سے کہا گیا کہ وہ خود کو مشہور سائنسی فکشن سیریز اسٹار ٹریک کی دنیا میں تصور کرے تو اس کی بنیادی ریاضی کی کارکردگی بہتر ہوگئی۔
کیا شائستگی سے فرق پڑتا ہے؟
سنہ 2025 میں ایک صارف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر سوال اٹھایا کہ لوگ جب ’پلیز‘ اور ‘تھینک یو‘ کہتے ہیں تو اس سے بجلی کے کتنے اخراجات بڑھتے ہوں گے؟ اس پر اوپن اے آئی کے سربراہ سیم الٹ نے جواب دیا ’کروڑوں ڈالرز‘۔
مزید پڑھیے: اے آئی کا نیا کمال، میڈیکل طلبہ کی تربیت کے لیے فرضی مریضوں کا استعمال
اگرچہ اس بیان کو کچھ افراد نے مذاق سمجھا لیکن سوال عملی بھی ہے۔ اے آئی ماڈلز آپ کے ہر لفظ کو چھوٹے حصوں (ٹوکنز) میں تقسیم کر کے تجزیہ کرتے ہیں اس لیے ہر لفظ جواب پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق یہ پیشگوئی کرنا تقریباً ناممکن ہے کہ کون سا لفظ کیسے اثر ڈالے گا۔
کچھ تحقیق سے معلوم ہوا کہ شائستگی سے بہتر نتائج مل سکتے ہیں مگر دیگر تجربات میں الٹا نتیجہ بھی سامنے آیا۔ مجموعی طور پر شواہد غیر حتمی ہیں اور چونکہ کمپنیاں اپنے ماڈلز کو مسلسل اپ ڈیٹ کرتی رہتی ہیں اس لیے پرانی تحقیق جلد غیر مؤثر ہو جاتی ہے۔
جادوئی الفاظ نہیں، واضح ہدایات اہم
وینڈر بلٹ یونیورسٹی کے کمپیوٹر سائنس کے پروفیسر جولز وائٹ کے مطابق یہ لفظوں کا جادو نہیں بلکہ اس بات کا معاملہ ہے کہ آپ اپنے مقصد کو کس طرح واضح انداز میں بیان کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید اے آئی ماڈلز جیسے چیٹ جی پی ٹی، جیمنی اور کلاڈ اب اتنے بہتر ہو چکے ہیں کہ معمولی لفظی تبدیلیوں سے مستقل فرق نہیں پڑتا۔
چیٹ بوٹ سے مؤثر بات چیت کے طریقے
ماہرین چند عملی تجاویز دیتے ہیں کہ ایک نہیں،کئی آپشنز مانگیں۔ ایک جواب کے بجائے 3 یا 5 مختلف تجاویز طلب کریں۔ اس سے آپ موازنہ کر کے بہتر انتخاب کر سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ڈیٹا سینٹرز میں بجلی کی بے تحاشا کھپت، اوپن اے آئی نے حل ڈھونڈ لیا
ماہرین کہتے ہیں کہ مثال فراہم کریں۔ اگر آپ ای میل لکھوانا چاہتے ہیں تو اپنی پرانی ای میلز کی مثال دیں۔ ہدایات کی فہرست دینے سے بہتر ہے کہ نمونہ فراہم کریں۔
ان کا کہنا ہے کہ سوال در سوال طریقہ اپنائیں۔ مثلاً جاب ڈسکرپشن لکھوانے کے لیے کہیں کہ اے آئی پہلے آپ سے ایک ایک کر کے سوال کرے پھر مکمل مسودہ تیار کرے۔
ماہرین یہ بھی تجویز کرتے ہیں کہ رول پلے میں احتیاط برتیں۔ اگر معلوماتی سوال ہو جس کا ایک درست جواب ہو تو اے آئی کو ’ماہر‘ قرار دینا بعض اوقات غلط اعتماد پیدا کر سکتا ہے جس سے ’ہیلوسینیشن‘ یعنی غلط معلومات کا خدشہ بڑھتا ہے۔ البتہ تخلیقی یا مشاورتی کاموں میں رول پلے مفید ہو سکتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ غیر جانبدار رہیں۔ اگر آپ 2 گاڑیوں میں سے انتخاب کر رہے ہیں تو پہلے سے اپنی پسند ظاہر نہ کریں ورنہ اے آئی وہی جواب دے سکتا ہے جس کی طرف آپ جھکاؤ رکھتے ہیں۔
شائستگی کا انسانی پہلو
تحقیقات کے مطابق اکثریت اب بھی اے آئی سے بات کرتے ہوئے شائستگی اختیار کرتی ہے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ اگرچہ ’پلیز‘ اور ’تھینک یو‘ کارکردگی بہتر نہیں بناتے لیکن یہ آپ کو ذہنی طور پر زیادہ مطمئن بنا سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: اے آئی کے بڑھتے اثرات، خواتین کی ملازمتیں اگلے 10 سال میں ختم ہو جائیں گی؟
آخرکار اے آئی ایک مشین ہے انسان نہیں۔ یہ جذبات نہیں رکھتی بلکہ انسانی رویے کی نقل کرتی ہے۔ بہتر نتائج کے لیے اسے ایک ٹول سمجھ کر واضح، منظم اور غیر جانبدار ہدایات دیں کیوں کہ یہی اصل مؤثر طریقہ ہے۔












